.

حزب اللہ کو ہتھیار پہنچانے والے ایرانی طیارے کی بذریعہ قطر واپسی : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک مال بردار طیارے کے ذریعے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو جدید ہتھیار منتقل کیے گئے ہیں۔اس خبری رپورٹ کے بعد اس قیاس آرائی کو تقویت ملی ہے کہ ایران نے عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیے گئے اس گروپ کو اسلحہ مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ جمعرات کو ایران کے مال بردار طیارے نے تہران سے بیروت کے لیے براہ راست پرواز کی تھی۔اس کا سراغ ملنے کے چند گھنٹے کے بعد اسرائیل نے مبیّنہ طور پر شام میں ایران نواز اہداف کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے عام شہری پروازوں کے ذریعے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو ہتھیار مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ان ہی میں سے ایک پرواز گذشتہ جمعرات کو لبنان پہنچی تھی۔اس بوئنگ 747 جیٹ نے واپسی کے لیے بیروت سے دوحہ کا راستہ اختیار کیا تھا اور وہاں سے تہران لوٹی تھی۔

رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران کے یہ مال بردار طیارے عام طور پر شام میں اپنا سامان اتارتے ہیں یا وہاں مختصر وقت کے لیے رُکتے ہیں، پھر بیروت کا رُخ کرتے ہیں اور وہ براہ راست لبنانی دارالحکومت نہیں جاتے ہیں۔

العربیہ نے اکتوبر میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ لبنان کے سیاسی ذرائع نے بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں اور فوجی آلات کی منتقلی سے متعلق امریکا سے آنے والی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان میں کہا گیا تھا کہ ایران سے دوحہ اور دمشق کے راستے بیروت میں حزب اللہ کو ہتھیار پہنچائے جارہے ہیں۔

امریکی چینل فاکس نیوز نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران نے حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں کی منتقلی کا عمل تیز کردیا ہے۔اس نے جی پی ایس ٹیکنالو جی میں استعمال ہونے والے آلات بھی منتقل کیے ہیں۔ان سے نان گائیڈڈ میزائلوں کو گائیڈ ڈ میزائلوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں پروازوں کے ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حزب اللہ کو ایرانی ہتھیار مہیا کرنے والی پروازیں ایرانی فضائی کمپنی فارس ائیر کی ملکیتی ہیں اور وہ تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اڑان بھرتی ہیں۔

مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایرانی مال بردار طیارے کے ذریعے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے حصے اور جی پی ایس ڈیوائسز سمیت مختلف آلات بیروت بھیجے گئے ہیں تاکہ ان سے لبنان میں موجود ایرانی فیکٹریوں میں گائیڈڈ ہتھیار بنائے جاسکیں۔