.

قطر کا جنوری 2019ء میں اوپیک کو خیرباد کہنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے جنوری 2019ء سے تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم (اوپیک) کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا ہے۔

قطر کےوزیر تیل سعد الکعبی نے کہا ہے کہ اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ ملک کے بین الاقوامی سطح پر کردار کو بڑھانے اور ایک طویل المیعاد حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے اور اب گیس انڈسٹری پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے گی۔

انھوں نے دوحہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ قطر نے اوپیک کو جنوری 2019ء سے تنظیم میں اپنی رکنیت ختم کرنے کے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے‘‘۔البتہ انھوں نے واضح کیا کہ قطر اس فیصلے کے باوجود 6 اور 7 دسمبر کو ویانا میں ہونے والے اوپیک کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔اس میں تنظیم کے رکن ممالک کے علاوہ روس سمیت اس کے اتحادی شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں تیل کی پیداوار میں کمی پر غور کیا جائے گا۔

قطری وزیر کا کہنا تھا کہ اوپیک کو چھوڑنے کا فیصلہ کوئی آسان نہیں تھا کیونکہ قطر گذشتہ 57 سال سے تنظیم کا رکن چلا آرہا تھا مگر اس کا اوپیک کی پیداوار کے حوالے سے فیصلوں پر بہت تھوڑا اثر تھا۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ دوحہ تیل پیدا کرنے والے غیر اوپیک ممالک کی طرح تنظیم کے تمام فیصلوں کی پاسداری کرے گا۔انھوں نے کہا کہ’’ قطر کا اوپیک سے انخلا کا فیصلہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ وہ اب اپنی قدرتی گیس کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے کوششوں پر توجہ مرکوز کرے گا‘‘۔واضح رہے کہ قطر دنیا میں مائع قدرتی گیس کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔

وزیر توانائی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس فیصلے کا جون2017ء سے چار عرب ممالک کی جانب سے قطر کے سیاسی اور اقتصادی بائیکاٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔