اسرائیلی سفیر سے ملاقات، مصری خاتون پروفیسر ایک بار پھر تنازع کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کی نہر سوئز یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی سابقہ پروفیسر ڈاکٹر منی برنس نے قاہرہ میں اسرائیلی سفیر سے ملاقات کے سبب ایک بار پھر ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ اس سے قبل منی کی چند وڈیوز گردش میں آئی تھیں جن میں وہ رقص کرتے ہوئے نظر آئیں۔ ان وڈیوز کے سبب انگریزی ادب کی پروفیسر کو ان کے یونیورسٹی عہدے سے فارغ کر دیا گیا تھا۔

منی نے فیس بک پر اپنے پیج پر ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں وہ پیر کے روز قاہرہ میں اسرائیلی سفیر ڈیوڈ جوفرین کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ اس موقع پر منی نے اپنا تحریر کردہ نیا ناول بھی ڈیوڈ کو پیش کیا۔ اس تصویر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا ہو گیا اور لوگوں نے اس حرکت کو شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔

رواں سال جون میں نہر سوئز یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر الشرقاوی نے کلیہ فنون میں انگریزی زبان کے شعبے کی پروفیسر ڈاکٹر منی برنس کو (پینشن برقرار رکھتے ہوئے) ان کی ملازمت سے علاحدہ کر دیا تھا۔ ڈاکٹر الشرقاوی کے مطابق برطرفی کا فیصلہ منی برنس کی اپنے گھر میں رقص کی وڈیوز کے منظر عام پر آنے اور منی کے ان وڈیوز کو فیس بک پر پوسٹ کرنے کے بعد بطور تادیبی کارروائی کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں