.

سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری ، امریکی صدر ٹرمپ کی تزویراتی شفافیت کی مثال : تجزیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دو ہفتے قبل سعودی عرب کا ساتھ دینے سے متعلق بیان ان کی تزویراتی شفافیت کی مثال ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو براہِ راست امریکی عوام کو فروخت کررہے ہیں۔

یہ بات امریکا کے ایک تجزیہ کار ٹونی بدران نے موقر جریدے ٹیبلٹ میگزین میں لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے بیان کے مرکزی پیرے میں ایران کے خطے میں تخریبی کردار کی شناخت کی گئی ہے اور اس کو درست طور پر یمن میں جنگ کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس بیان میں کہا تھا کہ ’’ ایران یمن میں سعودی عرب کے خلاف ایک خونریز گماشتہ جنگ کا ذمے دار ہے‘‘۔بدران کے بہ قول صدر نے تزویراتی شفافیت کو واضح کردیا ہے مگر واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرنے والے ماہرین اس نکتے کو یکسر فراموش کررہے ہیں۔

بدرا ن نے اس نقطہ نظر کو بھی مسترد کردیا ہے کہ یہ سعودی عرب تھا جس کی یمن میں مداخلت کی وجہ سے حوثی ایران سے اسلحہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ’’ یہ بیان درست نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی بالغ نظر حکومت اپنی سرحد پر ایران کے میزائلوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو قبول نہیں کرے گی۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ امریکا کے مفاد میں ہے کہ وہ ایران اور اس کی گماشتہ ملیشیاؤں بہ شمول حزب اللہ ایسے پابندیوں کا شکار گروپوں کو روکے‘‘۔

مسٹر بدران اپنے تجزیے میں صدر ٹرمپ کے بیان کا دوبارہ حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:’’صدر ٹرمپ نے امریکا کے علاقائی مفادات کا مختصراً تذکرہ کرتے ہوئے اس کے سعودی عرب کے ساتھ اتحاد کو ٹھوس انداز میں اجاگر کیا ہے۔اس سے امریکی عوام کے لیے بھی اس کی اہمیت کی وضاحت ہوجاتی ہے‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’امریکا ا ور سعودی عرب کا اتحاد صرف علاقائی وجوہ کی بنا پر ہی اہم نہیں ہے بلکہ سعودی ہماری ایران کے خلاف جنگ میں ہمارے بہت عظیم اتحادی ہیں‘‘۔