.

آبنائے ہُرمز سے آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنایا جائے گا : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران کی آبنائے ہُرمز سے تیل اور مال بردار جہازوں کی آمد ورفت میں رخنہ ڈالنے کی دھمکیوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس اہم آبی گذرگاہ سے بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا۔

امریکا کی ایران پالیسی کے بارے میں خصوصی ایلچی برائن ہُک نے ایرانی صدر حسن روحانی کے آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کے دھمکی آمیز بیان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایران آبنائے ہُرمز کو کنٹرول نہیں کرتا ہے۔

انھوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ آبنائے ہُرمز ایک بین الاقوامی آبی گذرگاہ ہے۔ امریکا اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی آبی گذرگاہوں سے مال بردار تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت کو یقینی بنائے گا‘‘۔

ایرانی صدر کی تقریر

برائن ہُک نے یہ نیوز کانفرنس ایرانی صدر حسن روحانی کی ایک تقریر کے جواب میں کی ہے۔ انھوں نے منگل کے روز ایران کے شمالی شہر شاہ رُود کے دورے کے موقع پر ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ ’’ امریکا کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ ہم اپنا تیل فروخت کررہے ہیں اور ہم اس کی فروخت جاری رکھیں گے اور وہ ہمیں ہماری تیل کی برآمدات سے نہیں روک سکتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ اگر کسی روز وہ ایران کے تیل کی برآمدات کو روک دیتے ہیں تو پھر خطے سے کوئی بھی تیل برآمد نہیں کیا جاسکے گا‘‘۔

صدر حسن روحانی نے جولائی میں بھی ایسا دھمکی آمیز بیان دیا تھا اور سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کے ایک کمانڈر اسماعیل کوثری نے کہا تھا کہ اگر امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی عاید کی تو تہران آبنائے ہُرمز سے تیل بردار جہازوں کو گذرنے نہیں دے گا اور ان کا راستہ روکے گا‘‘۔

ایران امریکا کی سخت اقتصادی پابندیوں کے جواب میں ماضی میں متعدد مرتبہ آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے 5 نومبر کو ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ان میں اس کی تیل کی تجارت کو بھی ہدف بنایا گیا تھا۔