.

عرب اتحاد کی یمن میں فوجی کارروائی سے حوثی باغی مذاکرات پر مجبور ہوئے : شہزادہ خالد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں متعیّن سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ عرب اتحاد یمن میں جاری بحران کا سیاسی حل چاہتا ہے اور وہ ایران نواز حوثی ملیشیا کے تاخیری حربوں کے باوجود بحران کے بات چیت کے ذریعے حل کے لیے پُرعزم ہے۔

شہزادہ خالد نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یمن میں قانونی حکومت کی حمایت میں حوثی باغیوں سے برسرپیکار عرب اتحاد نے فوجی کارروائی سے بہت سے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’عرب اتحاد نے ہمیشہ حوثی باغیوں کے مذاکرات کی میز پر آنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے ‘‘۔

دریں اثنا یمن کی قانونی حکومت کا وفد اقوام متحدہ کے زیر اہتمام امن مذاکرات میں شرکت کے لیے سویڈن روانہ ہوگیا ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس اور حوثی باغیوں کا وفد ایک خصوصی طیارے کے ذریعے گذشتہ روز صنعاء سے سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم پہنچ چکا ہے ۔

فریقین کے درمیان2016ء کے بعد یہ پہلے امن مذاکرات ہوں گے۔اس کے آغاز کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔البتہ یمنی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ان مذاکرات کا آغاز ہوسکتا ہے۔اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور مارک لوکاک کا کہنا ہے کہ سویڈن میں یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات کوئی آسان نہیں ہوں گے۔