بین الاقوامی ریڈ کراس یمن میں قیدیوں کے تبادلے میں کردار ادا کرنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے سمجھوتے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔ ریڈکراس نے سویڈن میں متحارب فریقوں کے درمیان جاری امن مذاکرات میں اس سمجھوتے کو بحران کے حل کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

جنیوا میں قائم بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کی مشرقِ وسطیٰ اور مشرقِ قریب کے لیے علاقائی ڈائریکٹر فیبریزیو کاربونی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی تنظیم سے قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے اور فنی امداد مہیا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

انھوں نے سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم کے شمال میں واقع علاقے ریمبو میں یمنی فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے اعلان کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہم خاندانوں سے جدا ہونے والے لوگو ں کو ملانے اور انھیں ان کے آبائی علاقوں میں منتقل کرنے کے لیے مدد دینے کو تیار ہیں‘‘۔

کاربونی نے کہا کہ بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی امید کرتی ہے کہ ’’اس سمجھوتے سے جنگ کے سیاسی حل کے لیے اعتماد پیدا ہوگا۔اب یمنی عوام اپنے مصائب کے خاتمے کے لیے مزید انتظار نہیں کرسکتے ہیں‘‘۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے بتایا ہے کہ متحارب فریقوں نے ریمبو میں جاری مذاکرات کے پہلے روز اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے اقدام کے طور پر قیدیوں کے تبادلے سے اتفاق کیا ہے۔

وہ یمن امن مذاکرات کے آغاز کے موقع پر گفتگو کررہے تھے۔امن مذاکرات میں یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی ملیشیا کے نمایندے شریک ہیں۔ سویڈش وزیر خارجہ مارگوٹ وال سٹروم اور مارٹن گریفتھس نے ان کے درمیان بات چیت کا آغاز کیا ہے۔

وال سٹروم نے اس موقع پر یمنی وفود سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’ اب یہ آپ یمنی فریقوں (پارٹیوں ) پر منحصر ہے۔آپ کے مستقبل کی کمان اب آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں