قطر نے جی سی سی میں واپسی کے مواقع گنوا دیے : بحرینی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے قطر کے ساتھ جاری تنازع کو بہت گہرا اور بے مثل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قطر نے خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) میں واپسی کے تمام مواقع کو ضائع کردیا ہے۔

انھوں نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشر ق الاوسط سے انٹرویو میں کہا ہے کہ دوحہ نے جی سی سی میں واپسی کی تمام کشتیوں کو جلا دیا ہے اور اس کے ساتھ تنازع کو صرف ایک معانقے سے حل نہیں کیا جاسکتا۔اب ایک نیا سمجھوتا ہونا چاہیے اور دوحہ کو نگرانی میں دیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا ’’ میں نہیں جانتا کہ قطر کی کیسے واپسی ہوگی ۔اس نے ایران ایسے خطے کے دشمنوں کے ساتھ راہ ورسم استوار کررکھے ہیں اور خود جی سی سی سے علاحدگی اختیار کی ہے۔ہم اس معاملے کو حل کرنے کے لیے حقیقت پسند ہیں مگر ہم اپنا مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

بحرینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ قطر نے جی سی سی کے سمجھوتوں کی پاسداری نہیں کی۔انھوں نے دوحہ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بحران کے حل کے لیے قطر کو عرب گروپ چار کی شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان شرائط میں تین چوتھائی کا تعلق الریاض میں طے شدہ دو سمجھوتوں سے ہے اور ایک ترک فوجیوں کی قطر میں موجودگی سے متعلق ہے۔ان سجھوتوں پر امیر قطر نے دوسرے لیڈروں کی موجودگی میں دست خط کیے تھے اور ان کی پاسداری کا وعدہ کیا تھا۔

شیخ خالد نے بتایا کہ جی سی سی کا سربراہ اجلاس آیندہ اتوار کو سعودی دارالحکومت الریاض میں ہوگا اور اس میں تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تزویراتی فوجی تعاون کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اس میں متعدد قرار دادیں بھی منظور کی جائیں گی۔

اس سربراہ اجلاس میں قطر کی نمایندگی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’’ قطر کی نمایندگی ہمارے لیے کسی تشویش کا سبب نہیں ہے۔اس کی موجودگی یا غیر حاضری دونوں برابر ہیں۔قطر کے بارے میں موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ہم نے جو کچھ کیا، وہ قطر کے اقدامات کا ردعمل تھا لیکن کیا قطر جی سی سی سے تعلق رکھتا ہے؟ وہ اس تنظیم کا رکن ملک ہے لیکن وہ مدد غیرملکی فوجیوں کی کررہا ہے۔قطر ی سرزمین پر غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور یہ دوحہ کا اپنا پیدا کردہ ہے‘‘۔

شیخ خالد نے انٹرویو میں ان اخباری اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے بحرین کا دورہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا :’’ آج جو کچھ رپورٹ ہوا ہے، یہ درست نہیں ہے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔اس سلسلے میں ہماے درمیان کوئی رابطے بھی نہیں ہیں۔درحقیقت کچھ بھی نہیں ہوا ہے اور اگر ایسا کوئی دورہ ہوتا ہے تو ہم اس کے اعلان میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں