'وہائٹ ہائوس' کی حفاظت کے لیے چہرہ شناسی کی ٹکنالوجی کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی حکومت نے وہائٹ ہائوس کی حفاظت کی خاطر ایک نئی ٹکنالوجی پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مدد سے وہائٹ ہائوس اور اس کے اطراف میں موجود کسی بھی اجنبی شخص کے چہرے کی شناخت ممکن ہوسکے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی داخلی سلامتی کے قوانین کے نفاذ کی ذمہ دار خفیہ ایجنسی کی زیر نگرانی ایک ایسی ٹکنالوجی کی تیاری کے منصوبے پر کام جاری ہے جو وائٹ ہائوس اور ایوان صدر میں آنے والے کسی بھی اجنبی شخص کی شناخت کرے گی۔

یہ ٹکنالوجی کی وائٹ ہائوس کے آس پاس سے گذرنے والوں، پارکوں میں گھومنے اور سڑکوں پر چہل قدمی کرنے والوں کی تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے ان کی اصلیت کا پتا چلانے میں مدد فراہم کرے گی۔

وائٹ ہائوس کی حفاظت کی اس نئی تکنیک کا انکشاف شہری آزادیوں کی امریکی فیڈریشن یعنی"ACLU" کی جانب سے کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ٹکنالوجی کے نتیجے میں جہاں کسی مشتبہ شخص کی شناخت ممکن ہو گی تو دوسری طرف اس اقدام سے شہریوں کے شخصی حقوق بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

امریکی داخلی سلامتی کی وزارت کی طرف سےجاری کردہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ خفیہ سروسز کی ایجنسی وہائٹ ہائوس کی نگرانی کے لیے ایسی جدید ٹکنالوجی کو استعمال میں لانا چاہتی ہے۔ آزامائشی طور پر پہلے مرحلے میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا یہ ٹکنالوجی خفیہ سروس کے ملازمین کے چہروں کو شناخت کر رہی ہے یا نہیں۔ تجربے کے طور پر وہائٹ ہائوس کے آڈیٹوریم میں دو الگ الگ مقامات پر لگے خفیہ کیمروں کی ریکارڈنگ، ان میں‌ راہ گیروں اور دیگر افراد کی محفوظ ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز سے ان لوگوں کی شناخت کی جائے گی۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا مذکورہ نظام روبعمل ہو گیا ہے یا نہیں، مگر اس کے تجرباتی عمل کا آغاز 19 نومبر کو کر دیا گیا تھا اور یہ تجرباتی عرصہ 30 اگست 2019ء تک جاری رہے گا۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ نگار اور شہری حقوق کی فیڈریشن کے رکن گے اسٹانلی نے کہا کہ مانیٹرنگ پروگرام سے بہت سے شکوک وشبہات اور سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا اس پروگرام کے ذریعے وہائٹ ہاوس کے اندر یا باہر موجود کسی بھی امریکی کو شک کے دائرے میں لایا جائے گا۔ کیا ہر چلنے پھرنے والے کے چہرے کی شناخت کےساتھ اس پر شک کیا جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں اس طرح کے کسی بھی اقدام سے قبل اپنے آپ سے استفسار کرنا چاہیے کہ ایسی ٹکنالوجی کے وسعت اختیار کرنے سے دستور کی خلاف ورزیوں کے واقعات بڑھ نہیں جائیں‌ گے۔ کیا چہروں کی شناخت کا نظام شہریوں کی پرائیویسی میں مداخلت نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں