.

چین میں افریقی سُوائن فیور کے پھیلاؤ میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین میں وزارت زراعت نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت بیجنگ اور سیچوان صوبے میں افریقی سُوائن فیور (سُوروں کی آنتوں میں ہونے والا ایک متعدی مرض) کی نئی حالتوں کا انکشاف ہوا ہے۔

مذکورہ علاقوں کے فارمز میں اس شدید بیماری سے متاثر ہونے والے سُوروں کی مجموعی تعداد 158 ہو گئی ہے۔

ادھر ویتنام میں حکام نے ملک میں افریقی سُوائن فیور کے نمودار ہونے کی صورت میں اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے بدھ کے روز مشقیں انجام دیں۔ ویت نام کے پڑوسی ملک چین سے اس بیماری کے منتقل ہونے کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

سُوائن فیور کے سبب دنیا بھر میں دس لاکھ سے زیادہ سُور مر چکے ہیں۔ چین میں اس بیماری کے نمودار ہونے کے بعد سے یہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ حکام کی جانب سے رواں سال اگست کے بعد سے اب تک 80 سے زیادہ حالتوں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

ویت نام میں وزارت زراعت کے نائب ڈائریکٹر برائے مویشی ٹونگ شنے کے مطابق "سوائن فیور ہماری سرحد سے صرف 150 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ لہذا اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اگر یہ بیماری ہمارے 2.7 کروڑ سُوروں تک پہنچ گئی تو یہ نہایت سنگین خطرہ ہو گا"۔

ویت نام کی وزارت زراعت کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق حکام نے رواں سال اگست کے بعد سے 324 سُوروں کا خاتمہ کیا اور اس کے 17 ٹن کے قریب گوشت کو تلف کیا جو اسمگل کیا گیا تھا۔