.

امریکا میں ٹرمپ کے خلاف سرگرم "دختران اسلام"!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ماہ سے امریکا، مغرب اور عرب دنیا کے اخبارات میں ان دو مسلمان خواتین کے چرچے ہیں جو امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے دوران امریکی سینٹ کی رکن منتخب ہوئیں۔ دونوں مسلمان خواتین الھان عمر اور رشیدہ طلیب ہیں جو کہ تارکین وطن میں سے ہیں۔ الھان عمر صومالی نژاد اور رشیدہ طلیب فلسطینی نژاد ہیں۔

امریکا میں دو مسلمان خواتین کا کانگریس کی رکن منتخب ہونا اہم پیش رفت ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ڈیموکریٹس کی سیاسی اور انتخابی حکمت عملی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ چونکہ یہ دونوں خواتین ڈیموکریٹکس کی حمایت سے کانگریس کی رکن بنی ہیں۔ اس لیے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے کانگریس میں اپنا سیاسی توازن بحال کرنے کے لیے اسلام کی مذہبی سیاسی تحریکوں کا سہارا حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس طرح ڈیموکریٹس مسلمان خواتین اور امریکا کی اقلیتوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگی ہے۔

یہ دونوں خواتین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کی سیاسی ٹیم اوان کے سیاسی فیصلوں بالخصوص ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے خلاف ہیں۔ چونکہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں ایران اور اخوان المسلمون کو تنہا کرنا اور تمام مذہبی سیاسی جماعتوں سے تعلقات ختم کرنا اہم ترین نکتہ ہے۔ اس لیے سیاہ فام افریقی اقلیت، امریکا میں فلسطینی نژاد خواتین بالخصوص اخوان کی فکر کی حامل لیندا صرصور جیسی خواتین کی طرف سے ٹرمپ کی مخالفت کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

لیندا صرصور کون ہیں؟

امریکا میں باراک اوباما کے صدر منتخب ہونے کے بعد 38 سالہ لیندا صرصور کا نام خبروں میں آنے لگا۔ تھوڑے ہی دنوں کے اندر لیندا صرصور وائٹ ہائوس میں ایک جانی پہچانی شخصیت بن کر سامنے آئیں۔ اس نے خود بتایا کہ 2010ء کے بعد انہیں وائیٹ ہائوس میں 7 بار اہم اجلاسوں میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

ڈیموکریٹس کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے سے تبدیلی کی 'ہیروئن' کے تمغے سے نوازا گیا اور یہ تمغہ کسی اور نے نہیں بلکہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے دیا۔ امریکی وزارت خارجہ کے 2014ء ’ٹوئٹر‘ پر موجود بیانات آج بھی موجود ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ لیندا صرصور کو امریکا میں اسلام کے حوالے سے ہونے والی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔

فلسطینی نژاد لیندا صرصور 1980ء کو امریکی شہر بروکلین میں پیدا ہوئی۔ اس کے والدین فلسطین کے علاقے غرب اردن کے وسطی شہر رام اللہ کے البیرہ گائوں کے رہنے والے تھے۔

لیندا صرصور کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکا میں ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش دیکھا گیا۔ اس نے ٹرمپ کے خلاف میکسیکو کے تارکین وطن اور سیاہ فام امریکیوں کے حقوق کے پتے کو خوب اچھالا۔

اس سے قبل لیندا صرصور کو قطر کی بین الاقوامی فائونڈیشن کی ذیلی تنظیم نیویارک میں عرب ۔ امریکن آرگنائزیشن کی رکن منتخب کیا گیا۔ سنہ 2004ء کو امریکا کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے لیندا صرصور اور اس کے شوہر ماھر جودہ سے انتہا پسند عناصر کے ساتھ تعلقات کے شبے میں تفتیش بھی کی۔ اس موقع پر امریکی پولیس اور تفتیشی اداروں نے عرب ۔ امریکا آرگنائزیشن کے انتہا پسند گروپوں بالخصوص اخون المسلمون اور حماس کے ساتھ تعلقات کی تفتیش کی۔

امریکا میں رہتے ہوئے لیندا صرصور نے خود کو اقلیتوں اور مہاجرین کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون کارکن کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی۔ اس کی اصل پہچان اخوان المسلمون کی نظریاتی ساکھ میں ڈھلنے والی ایک خاتون کے سوا اور کچھ نہیں تھی۔ شمالی امریکا اور کینیڈا میں اس نے متعدد سرگرمیوں اور پروگرامات میں یہ بتایا کہ وہ کوئی دین کی عالمہ نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی ایک کارکن ہیں۔

شمالی امریکا اور کینڈا میں 2016ء کے دوران 26 سے 28 دسمبر کے دوران اخوان المسلمون کے پروگرامات میں لیندا صرصور نے بھی شرکت کی۔ یہ اس خطے میں اخوان المسلمون نیٹ ورک کی سالانہ سرگرمیاں اور اجتماعات تھے۔ اس سے قبل وہ 1979ء میں قائم کردہ مسلم طلباء لیگ کی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں۔

لیندا صرصور کے ساتھ امریکا میں ایک اور ایسی شخصیت کے نام نے شہرت حاصل کی۔ وہ اردن کی ایک فلم پروڈیوسر سماح صافی ابو زید ہیں۔ انہوں نے لینیدا کے بھائی محمد ابو زید کے ساتھ مل کر سعودی عرب میں قید "سلمان العودہ" کے حوالے سے "نور" کےعنوان سے ایک فلم تیار کی۔ سماح نے محمد ابو زید کے ساتھ اپنی متعدد تصاویر بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں۔

اس کے علاوہ نہیں ترکی کے صدر طیب ایردوآن کے ساتھ بھی ایک گروپ فوٹو میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ تصویر ترکی میں "الشرق" فورم میں شرکت کے موقع پر بنائی گئی۔

اس فورم میں‌ شرکت کرنے والوں میں نیویارک میں دعوت کے سرخیل قرار دیے جانے والے سراج وھاج، عالمی علماء کونسل کے بانی رکن جاسر عودہ، لندن میں مقاصد فائونڈیشن کے چیئرمین جمال بدوی،عالمی علماء کونسل کے رکن اور "کیر" کے بانی اسامہ ابو ارشاد نے شرکت کی۔

جاسر عودہ علامہ یوسف القرضاوی کی قائم کردہ عالمی علماء کونسل کے رکن ہیں انہوں نے سنہ 2017ء میں جہاد کے عنوان سے ایک کتاب تالیف کی۔ اس کتاب میں انہوں‌ نے عالم اسلام پر حقیقی جہادی فکر کی ترویج اور جہادی کلچر کے احیاء کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں‌ نے اس کتاب میں اسلامی سیاسی جماعتوں کے افکار کا بھی دفاع کیا۔ استبدادی طاقتوں کے طرز عمل کی مخالفت کی اور مسلمانوں کو استبدادی قوتوں کے خلاف اپنی صفوں میں‌ اتحاد پیدا کرنے پر زور دیا۔

لیندا صرصور کا اعلان جہاد

لیندا صرصور کے حلقہ فکرکو سمجھنے کے بعد ہم بہ آسانی صرصور کی اخوانی جڑوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لیندا صرصور نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کی انتظامیہ اور امریکی پالیسیوں کے خلاف اعلان جہاد کیا۔

لیندا صرصور نے مسلم ۔ امریکا تعلقات عامہ کونسل "کیر" کے سانس فرانسیسکو میں ہونے والے سالانہ اجلاس سے جن اصطلاحات کا استعمال کیا وہ وہی اصطلاحات ہیں جو اس سے قبل اخوان المسلمون کی فکری رہ نما سید قطب اور حاکمیت اور جاھلیت کی اصطلاحات کے خالق ابو الاعلیٰ مودودی کی جانب سے متعارف کرائی گئیں۔ انتہا پسند تنظیموں "داعش" اور القاعدہ نے بھی قریب قریب وہی اسلوب اختیار کیا ہے۔

حسنی مبارک امریکی مطالبہ مسترد کردیا

سابق مصری صدر حسنی مبارک نے ایک بار کہا تھا امریکا کی طرف سے ان پر دبائو تھا کہ وہ اقتدار کے بدلے میں اخوان المسلمون کو شریک اقتدار کروں مگر میں‌ نے امریکی دبائو مسترد کر دیا تھا۔

لیندا صرصور نے بھی اپنی ایک تقریر میں اسی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ ہمارے ساتھ ہمارے اپنے معاشروں میں جو سلوک ہو رہا ہے اسے اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ ہمارے ساتھ انتقامی پالیسی نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ہو رہی ہے بلکہ یہ نا انصافیاں امریکا میں بھی جاری ہیں۔ ہم جس راستے پر چل رہے ہیں وہ بھی جہاد ہی کی ایک شکل ہے۔ ان کے پاس فاشزم، نسل پرست، سفید فام اور اسلام فوجیا کے علم بردار ہیں۔ ان کے خلاف ہمیں آواز بلند کرتے رہنا چاہیے۔ آج یہ لوگ وائیٹ ہائوس میں بیٹھے ہیں۔ یہ امریکا کے حقیقی خیرخواہ نہیں۔

ٹرمپ کا تختہ الٹنے کے لیے سرگرم بہنیں

امریکا میں صدر ڈونلڈ ترمپ اور ان کی انتظامیہ کے خلاف بغاوت پر اکسانے والوں میں لیندا صرصور کے ساتھ ساتھ اسلامک آرگنائزیشن کی چیئرپرسن اور کینیڈین نژاد انگریڈ ماٹسن بھی پیش پی ہیں۔ انہیں امریکا میں"مسلمان بہنوں" کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔ جنوری 2009ء میں صدر اوباما نے انہیں اپنی حلف برداری کی تقریب میں خطاب کا بھی موقع دیا۔

آج وہ ٹرمپ کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش دکھائی دیتی ہیں۔ وہ اس گروپ کا حصہ ہیں جس میں فلسطینی نژاد لیندا صرصور،الھان عمر جسے اوباما کی روحانی اولاد کہا جاتا ہے۔ نومبر 2017ء کو اس نے‌ خود کو اوباما کی روحانی اولاد قرار دیا تھا۔ اس گروپ میں دالیا مجاھد بھی شامل ہیں۔ دالیا جالوب مرکز برائے اسلامک اسٹڈیزکے ڈائریکٹر ہیں۔ امریکا میں مسلمان بہنوں کے گروپ کے ساتھ معاونت کرنے والوں میں ترک صدر طیب ایردوآن کی صاحب زادی سمیہ اردوآن بھی شامل رہی ہیں۔

یہ تمام خواتین جہاں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت خلاف ہیں تو وہیں وہ باراک اوباما کی پر زور حامی ہیں۔ لیندا صرصور نے خود کو امریکا کی باغیانہ پالیسی کے خلاف ہرمحاذ پر لڑنے والی مجاھدہ قرار دیا ہے۔ یہ تمام خواتین ٹرمپ کی ایران مخالف، اسلامی سیاسی تحریکوں کے خلاف حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو امریکا کا تزویراتی حلیف قرار دینے کی ڈٹ کر مخالفت کی ہے۔