.

امریکا ہماری سرزمین پر فوجی اڈہ نہیں بنائے گا: قبرص کا روس کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قبرص نے روس کے اُس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا قبرص میں ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماسکو نے رواں ہفتے کے آغاز پر خبردار کیا تھا کہ روs قبرص میں کسی بھی قسم کے امریکی عسکری وجود کا جواب دے گا اور اس کا نتیجہ قبرص میں عدم استحکام کی صورت میں سامنے آئے گا۔

تاہم قبرص کے وزیر خارجہ نیکوس خریستوڈولیڈیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف سے بات چیت میں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کے بیان پر احتجاج کیا ہے۔

نیکوس نے "سیگما" ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روسی ترجمان کے بیان پر قبرص کی گہری تشویش کا اظہار کیا کیوں کہ یہ بیان حقائق پر مبنی نہیں تھا اور سفارتی معیار سے تجاوز کر گیا"۔

قبرص کے وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ نیکوسیا اور روس کے درمیان "شان دار تعلقات" مگر قبرص کسی بھی دوسرے خود مختار ملک کی طرح اپنے مفاد کے حق میں فیصلے کرے گا۔

نیوکس کے مطابق وہ آئندہ ماہ جنوری میں ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں وہ سرگئی لاؤروف کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

اس سے قبل بدھ کے روز روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخاروفا نے کہا تھا کہ "مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق امریکا قبرص میں اپنے عسکری وجود کو مضبوط بنانے کے آپشنز پر غور کر رہا ہے"۔

ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران زاخاروفا کا کہنا تھا کہ "اس کوشش کا مقصد مخفی نہیں ،،، اور وہ یہ ہے کہ شام میں روسی فوج کے کامیاب فوجی آپریشن کی روشنی میں خطے میں بڑھتے روسی اثر و رسوخ پر روک لگانا ہے"۔

روس کی جانب سے 2015 میں شام کے تنازع میں مداخلت کے نتیجے میں طاقت کا توازن شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے حق میں ہو گیا تھا۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کے روز بتایا کہ امریکا اور قبرص نے نومبر میں ایک سمجھوتے پر اتفاق رائے کیا تھا جس کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان کئی امور میں دو طرفہ سکیورٹی تعاون کو گہرا بنایا جائے گا۔