.

حوثی لیڈر نے ملیشیا کےتشدد کی تحقیقات کرنے پر اپنے ہی بھائی کا مُنھ بند کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے لیڈر عبدالملک الحوثی نے اپنے بھائی یحییٰ الحوثی کی سربراہی میں قائم ایک تحقیقاتی کمیٹی کو ختم کردیا ہے۔امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) کے مطابق یہ کمیٹی حوثی ملیشیا کے عقوبت خانوں میں زیر حراست افراد سے تشدد اور انسانیت سوز سلوک کے واقعات کی تحقیقات کی ذمے دار تھی۔

حوثیوں کے اعتدال پسند لیڈروں کا دھڑا حراستی مراکز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تشدد کو تسلیم کرتا ہے اور ان کا خاتمہ چاہتا ہے۔حوثی لیڈر کے بھائی یحییٰ الحوثی نے 2016ء میں تشدد اور غیر معیّنہ مدت کے لیے لوگوں کو زیر حراست رکھنے کے واقعات کی تحقیقات کے لیے یہ کمیٹی قائم کی تھی ۔اس نے اپنے قیام کے بعد صرف تین ماہ میں ساڑھے تیرہ ہزار قیدیوں کو رہا ئی دلانے میں مدد دی تھی۔

اس کمیٹی نے عبدالملک الحوثی کو ایک ویڈیو رپورٹ بھیجی تھی۔اس میں جیل کے وارڈز میں ٹھونسے گئے قیدیوں کے مناظر ریکارڈ کیے گئے تھے اور ان کے ساتھ سینیر حوثی شخصیات کے بیانات بھی شامل تھے۔حوثی لیڈر نے اس ویڈیو کا کبھی جواب نہیں دیا بلکہ اس کے ردعمل میں حوثی ملیشیا کے سخت گیر سکیورٹی حکام نے اس کمیٹی ہی کو تحلیل کردیا تھا اور اس کے دو ارکان کو مختصر وقت کے لیے گرفتار کر لیا تھا۔

اس ویڈیو کو جاری نہیں کیا گیا تھا لیکن اے پی نے اس کی ایک کاپی حاصل کر لی تھی ۔اس میں حوثی شخصیات کے قیدیوں سے ناروا سلوک سے متعلق خوف ناک اعترافی بیانات بھی شامل ہیں۔کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ ’’ جو کچھ ہم نے دیکھا ، وہ آپ کو خون کے آنسو رُلا دے گا‘‘۔

تشدد اور انسانیت سوز سلوک کے ثبوت

2017ء میں تاوان کے بدلے میں رہائی پانے والے ایک قیدی نے بتایا تھا کہ حوثی انھیں ٹھڈے اور تھپڑ مارتے تھے۔چہرے ، دانتوں اور جسم پر ڈنڈے مارتے تھے اور چلّاتے تھے:’’ تمھیں قتل کردیا جائے گا کیونکہ تم غدار ہو‘‘۔اس قیدی کے خاندان نے اس کی رہائی کے لیے تب حوثیوں کو 55 لاکھ یمنی ریال ( 8 ہزار ڈالر) ادا کیے تھے۔

حوثی ملیشیا کے مسلح افراد اس کو کسی نامعلوم مقام پر لے گئے تھے۔پہلے انھوں نے اس کو لکڑی کے ایک ڈبے پر کھڑا کیا ،اس کی کلائیوں کو چھت سے لٹکی زنجیر سے باندھ دیا اور پھر اس کے پاؤں کے نیچے سے ڈبے کو ٹھڈا مار کر ہٹا دیا تھا ۔انھوں نے اس کو برہنہ کردیا اور ننگے جسم پر تشدد کرتے رہے تھے ۔پھر انھوں نے اس کے ناخن کھینچ لیے اور بال نوچ لیے تھے ۔ حوثیوں کے اس وحشیانہ تشدد سے وہ بے ہوش ہوگیا تھا ۔

حوثیوں کی انسانی حقوق کی وزارت نے 2016ء کے آخر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ قیدیوں پر تشدد کے منظم استعمال کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ وزارت پراسیکیوٹرز کے ساتھ مل کر قیدیوں کے حقوق کو یقینی بنانے اور انھیں انصاف کے حصول اور منصفانہ ٹرائل کی قانونی ضمانت مہیا کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔

حوثیوں کے ہاتھوں قیدیوں سے انسانیت سوز سلوک اور ان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بیرونی دنیا بہت کم جانتی ہے کیونکہ حوثی ملیشیا اپنے مخالفین اور صحافیوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرانے کے لیے کارروائیاں کرتی رہتی ہے۔

یمن میں جبری لاپتا یا گرفتار کیے گئے افراد کی ماؤ ں کی یونین کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ چار سال کے دوران میں حوثیوں نے 18 ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ان میں سے ایک ہزار افراد کو حوثیوں کی خفیہ جیلوں کے نیٹ ورک میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔