.

فرانس میں مظاہرے: ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر پیرس سمجھوتے کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پیرس سمجھوتے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ فرانسیسی دارالحکومت میں جار ی مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انھوں نے درست طور پر اس سمجھوتے کو مسترد کیا ہے۔

انھوں نے ہفتے کی صبح یہ ٹویٹ ایسے وقت میں کی ہے جب پولینڈ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام قریباً دو سو ممالک کی کانفرنس جاری ہے اور اس میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 2015ء میں طے شدہ اس معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے لکھا ہے:’’ پیرس سمجھوتا خود پیرس کے لیے اچھا نہیں جارہا ہے ۔فرانس بھر میں ہنگامے اور مظاہرے جاری ہیں۔لوگ بھاری رقوم ادا کرنے کو تیار نہیں ۔وہ ماحول کے تحفظ کے لیے تیسری دنیا کے ممالک کو بھاری رقوم نہیں دینا چاہتے‘‘۔

امریکی صدر اس سے قبل بھی فرانس میں 17 نومبر سے جاری ’’پیلی صدر ی تحریک‘‘ کے دوران میں پیرس معاہد ے کے خلاف بیان جاری کر چکے ہیں۔ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک اب صدر عمانوایل ماکروں کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں تبدیل ہوچکی ہے اور مظاہرین بھی پیرس معاہدے کی مخالفت کررہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ منگل کے روز پیرس سمجھوتے کو ’’مہلک ناکام‘‘ قرار دیا تھا۔وہ ایک عرصے سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ انھیں دنیا کے محترم سائنس دانوں کے انسانی سرگرمی اور درجہ حرارت میں اضافے کے درمیان تعلق پر اتفاق رائے پر اعتماد نہیں ہے ۔انھوں نے جنوری 2017ء میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد امریکا کو بین الاقوامی پیرس سمجھوتے سے نکال لیا تھا اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق قوانین پر عمل درآمد بھی روک دیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی معیشت کو ترقی کی ضرورت ہے۔

گذشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے خود ایک رپورٹ جاری کی تھی اور ا س میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر کاربن کا اخراج اسی طرح بلا روک ٹوک جاری رہتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے تو اس سے بھاری اقتصادی نقصانات ہوسکتے ہیں لیکن امریکی صدر نے اس رپورٹ کے حاصلات کو تسلیم کرنے ہی سے انکار کردیا تھا۔