.

افریقا میں قذافی کے دور کی سرمایہ کاری ضائع ہونے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری سیاسی اور انتظامی انقسام کے نتیجے میں براعظم افریقا میں لیبیا کی سرمایہ کاری تحلیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ افریقی ممالک کی حکومتوں نے مذکورہ انقسام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس صورت حال کو اپنی سرزمین پر لیبیا کے متعدد منصوبوں پر ہاتھ صاف کرنے کے واسطے استعمال کیا۔ اس مقصد کے لیے قانونی دائرہ کار میں رہ کر منظم انداز سے بیرون ملک لیبیا کی املاک ہتھیانے کی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

اس بات کا انکشاف (LAIC) Libyan African Investment Company کی جانب سے لیبیا کی وفاقی حکومت کی صدارتی کونسل کو بھیجے گئے ایک خط میں کیا گیا ہے۔ مذکورہ ادارہ افریقا کے 18 ممالک میں 23 کمپنیاں چلا رہا ہے۔ خط میں کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بیرون ملک لیبیا کے مالی اثاثوں کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کی جائے اور براعظم افریقا میں لیبیا کی املاک کے ضائع ہونے کا سلسلہ روک کر انہیں اپنے قبضے میں لیا جائے۔

رواں ہفتے کے اختتام پر منظر عام پر آنے والے خط میں LAIC نے بتایا ہے کہ وہ مختلف ممالک میں قومیائے جانے کے عمل یا عدالتی احکامات کے ذریعے حکومتوں کے ہاتھ ڈالے جانے کے سبب اپنے کئی اثاثے اور املاک سے ہاتھ دھو چکی ہے۔ ان میں ٹوگو اور کانگو میں ہوٹلز اور چاڈ اور بینن میں قطع اراضی کے علاوہ مالی، گنی بساؤ، چاڈ اور تیونس میں موجود کمپنیاں شامل ہیں۔

لیبیا کو افریقا میں اپنی دولت سے محروم ہونے کے امکانات کا سامنا ہے۔ افریقا میں لیبیا کی سرمایہ کاری قذافی کی حکومت کے وقت سے ہے جب افریقی ممالک میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے واسطے کروڑوں ڈالر لگا دیے گئے۔ تاہم سیاسی اور انتظامی انقسام کے نتیجے میں اب اس سرمایہ کاری کا مستقبل روز بروز غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔