.

سویڈن مذاکرات :یمنی حکومت کی حوثیوں سے قیدیوں کے تبادلے پر پیش رفت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن میں امن مذاکرات میں شریک یمن کی قانونی حکومت کے وفد نے حوثی ملیشیا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے میں پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

یمن کے سرکاری وفد کےایک رکن بریگیڈئیر عسکر احمد زائل نے العربیہ کو بتایا ہے کہ صنعاء سے تعلق رکھنے والے مخالف وفد سے قیدیوں کے تبادلے کے مسئلے پر براہ راست بات چیت ہوئی ہے اور ان سے قیدیوں کے تبادلے ،ان کے اجتماع اور ٹرانسپورٹ اور اس عمل کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر آیندہ چوبیس گھنٹے میں مشاورت مکمل ہوجائے گی ۔

اسٹاک ہوم میں جمعرات سے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جاری امن مذاکرات میں یہ پہلا موقع ہے کہ یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا نے بالمشافہ بات چیت کی ہے اور مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر سیاسی قیدیوں کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک کے سفراء نے طرفین پر زوردیا ہے کہ وہ سویڈن میں جاری ان مذاکرات میں اعتماد کی فضا بحال کرنے ، مذاکرات کے فریم ورک اور تشدد میں کمی کے لیے پیش رفت کریں۔ان سفیروں نے اتوار کی صبح دونوں وفود سے ملاقات کی ہے۔

یمنی حکومت کے وفد کے ایک رکن محمد الامیری نے کہا کہ بین الاقوامی برادری نے حوثی باغیوں کے پیدا کردہ بحران کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد کےعزم کا ا عادہ کیا ہے۔

طرفین نے اقوام متحدہ سے مشاورت کے لیے خصوصی ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔البتہ یہ مختلف امور سے متعلق ہیں۔یمنی حکومت کے وفد نے قیدیوں ، اقتصادی صورت حال اور تعز سے متعلق تین کمیٹیاں قائم کی ہیں۔دوسری جانب حوثیوں کے وفد نے صنعاء کے ہوائی اڈے کو کھولنے ، قیدیوں کے مسئلے اور اقتصادی صورت حال سے متعلق کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔اقوام متحدہ نے اپنے طور پر فریقین میں اعتماد بحال کرنے کے اقدامات ، مذاکراتی فریم ورک اور تشدد میں کمی کو ایجنڈے میں سرفہرست رکھا ہے۔