افغان فٹ بال فیڈریشن پرخواتین کھلاڑیوں کو ہراساں کرنے کا الزام

فیڈریشن کے سربراہ سمیت متعدد عہدیداروں سے تحقیقات شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کی حکومت نے فٹ بال فیڈریشن کے عہدیداروں کی جانب سے خواتین فٹبال ٹیم کو جنسی طورپر ہراساں کیے جانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد متعدد سینیر عہدیداروں سے تفتیش شروع کی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق افغان پراسیکیوٹر جنرل کے ترجمان نے اتوار کو بتایا کہ پراسیکیوٹر جنرل نے فٹ بال فیڈریشن کے چیئرمین اور کئی دوسرے عہدیداروں کو کام سے روک دیا گیا ہے۔ان پر خواتین ٹیم کو جنسی طورپر ہراساں کرنے کا الزام ہے اور اس الزام کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

برطانی اخبار"گارجین" کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ ہفتے ویمن فٹ بال ٹیم کو ہراساں کیے جانے کی خبر سامنے آنے کے بعد اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ افغان فٹ بال ٹیم کی خواتین کھلاڑیوں کو فیڈریشن کے عہدیداروں کی جانب سے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایاگیا۔
پراسیکیوٹر جنرل کے ترجمان جمید رسولی نے کہا کہ تحقیقات ٹیم کی سفارش پر ملزمان کو کام سے روکنے کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ افغان ویمن فٹ بال ٹیم کی جنسی ہراسانی کی خبر سب سے پہلے برطانوی اخبار گارجین نے چھاپی۔ اخباری رپورٹ کے مطابقرواں سال اردن میں ایک تربیتی کیمپ میں افغان فٹ بال ٹیم کی خواتین کھلاڑیوں کو ان کے اپنے ملک کی فٹ بال فیڈریشن کے عہدیداروں کے ہاتھوں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ افغان عوام کے لیے بہت بڑے صدمے کا باعث ہے اور اسے کوئی بھی قبول نہیں کرسکتا۔

ایک افغان عہدیدار نے بتایا کہ فٹ بال فیڈریشن کے چیئرمین اکرم الدین کریم اور پانچ دوسرے عہدیداروں کو کام سے روک کر ان کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی ہیں تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جل سامنے آئیں گی۔

درایں اثناء افغان فٹ بال فیڈریشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اخبار میں فیڈریشن کے عہدیداروں پر خواتین ٹیم کو ہراساں کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ فیڈریشن تحقیق اور تفتیش میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرےگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں