الریاض اعلامیہ : درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جی سی سی کے اتحاد و کردار کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

خلیج تعاون کونسل کے انتالیسویں سالانہ سربراہ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کونسل کے رکن ممالک کے درمیان اتحاد اور اس کے مشترکہ کردار کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

جی سی سی کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے سعودی دارالحکومت الریاض میں کونسل کے اختتامی اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں سات نکات پر مشتمل اعلامیہ جاری کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ کونسل کے مقاصد کے حصول کے لیے ایک نقشہ راہ وضع کیا جائے گا۔اس کے تحت رکن ممالک کے شہریوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔خطے میں سکیورٹی میں اضافہ کیا جائے گا اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جی سی سی کے کردار میں اضافہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں شریک جی سی سی کے لیڈروں نے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی سمجھوتے کی تصریحات پر جامع عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے اور بالخصوص مشترکہ معاشی منڈی کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کے بعد جاری کردہ الریاض اعلامیے کے سات نکات یہ ہیں:

1۔ جی سی سی کی قیادت کے ویژن کے مطابق ایک نقشہ راہ وضع کیا جائے گا تاکہ تنظیم کے رکن ممالک کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دیا جاسکے اور شہریوں کی امنگوں کے مطابق ترقی اور خوش حالی کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔خطے کی سلامتی اور ا ستحکام کو مضبوط بنایا جاسکے اور جی سی سی کے رکن ممالک کے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کردار میں اضافہ کیا جاسکے۔

2۔جی سی سی کے رکن ممالک کے درمیان 2025ء تک معاشی اتصال وارتباط کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں گے اور اس ضمن میں معاشی سمجھوتے کی تصریحات پر عمل درآمد کے لیے ضروری قانون سازی کی جائے گی۔

3۔جی سی سی کے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے شعبے میں مشترکہ فوجی کمان کے کمانڈر کا تقرر کیا جائے گا۔خلیجی ریاستوں کے سربراہان مشترکہ فوجی قیادت کو فعال کرنے کے لیے تمام ضروری طریق کار کو جلد سے جلد مکمل کریں گے۔

4۔ جی سی سی کی قیادت خطے میں سکیورٹی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کونسل کے بنیادی کردار کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔دہشت گرد تنظیموں سے جی سی سی کی ریاستوں کے درمیان مربوط سکیورٹی کے ذریعے نمٹا جائے گا۔انتہا پسند نظریے کی بیخ کنی کے لیے دین اسلام اور مصدقہ عرب روایات پر مبنی اعتدال پسندی ، رواداری ، اثباتیت اور انسانی حقوق کی اقدار پر زور دیا جائے گا۔دہشت گردی اور اس کے ذرائع کے استیصال کے لیے عالمی برادری میں جی سی سی کے شراکت داروں سے مل کر کام کیا جائے گا۔خطے کے ممالک کی دولت اور وسائل کو نقصان پہنچانے والی ملیشیاؤں اور دہشت گرد گروپوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔

5۔ جی سی سی کی قیادت کونسل کے منشور پر مبنی ایک مشترکہ اور فعال خارجہ پالیسی اختیار کرنے پر زور دیتی ہے۔ وہ فلسطینی کاز کی حمایت کا اعادہ کرتی ہے اور فلسطینیوں کی صفوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

6۔ جی سی سی کے لیڈروں نے کونسل ، اس کے دوست ممالک اور دوسرے علاقائی نظاموں کے درمیان تزویراتی شراکت داری اور اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ خطے میں سکیورٹی اور استحکام کا مقصد حاصل کیا جا سکے۔ انھوں نے اسلامی اور عرب اقدار کے تحت اپنی انسانی ذمے داری سمجھتے ہوئے جی سی سی کے رکن ممالک کی جانب سے دنیا کے غریب ممالک میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کاموں کے لیے مالی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

7۔ قیادت نے جی سی سی کے رکن ممالک ، کاروباری شعبے ، خواتین اور خلیج خاندان اور غیر سرکاری تنظیموں کے کونسل کی کامیابیوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار کی اہمیت وضرورت پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ کونسل کی قیادت کی جانب سے جاری کردہ قراردادوں اور ہدایات پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں