ایران نے میزائل تجربات دوگنا کردیے:مغربی انٹیلی جنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغربی ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کے مطابق ایران نے اپنے میزائل تجربات میں دوگنا اضافہ کردیا ہے۔ تہران کی جانب سے متنازع میزائل تجربات اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

ایک جرمن اخبار"فولٹ ایم زونٹاگ" نے جرمن انٹیلی جنس کے حوالے سے لکھا ہے کہ رواں سال کے دوران ایران نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے 7، کم فاصلے تک مار کرنے والے5 اور کروز میزائلوں کے متعدد تجربات کیے۔ گذشتہ برس کی نسبت یہ میزائل تجربات دو گنا زیادہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے بعض ایسے میزائل تجربات بھی کیے ہیں جن کی رینج میں یورپی ممالک بھی آسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے میزائلوں کے حوالے سے یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ منگل کو سلامتی کونسل کا ایک بند کمرہ اجلاس ہوا تھا جس میں امریکا نے ایران کےایک نئے میزائل تجربے کا انکشاف کیا تھا۔
امریکا، فرانس اور برطانیہ نے ایران کے اس میزائل تجربے کو ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کی ناکامی قرار دیا تھا۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ایران کے میزائل تجربے کی شدید مذمت کی اور اسے سلامتی کونسل کی 2015ء میں منظور کی جانے والی قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اس قرارداد میں ایران پ بیلسٹک میزائل، طویل فاصلے تک مار کرنے اور جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت کے حامل میزائلوں کے ٹیسٹ کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جرمن اخبار کے مطابق ایران نے تین نئے میزائلوں شہاب 3 اور خر مشھر کا کے تجربات کیے ہیں۔ یہ میزائل جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم بین الاقوامی اسٹریٹیجک اسٹڈیز سینٹر کی جانب سے ستمبرمیں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں‌کہا گیا تھا کہ ایران خلائی تحقیقاتی پروگرام کی آڑ میں اپنے میزائل ہتھیاروں کو وسعت دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں