بھارتی ٹائیکون وجے مالیا کو فراڈ کے الزامات پر برطانیہ سے بے دخل کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لندن کی ایک عدالت نے بھارتی ٹائیکون وجے مالیا کو برطانیہ سے بے دخل کرکے بھارت کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے جہاں ان کے خلاف فراڈ کے الزامات پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

بھارت 62 سالہ مالیا کے خلاف بنک دیوالیہ ہونے پر فوجداری مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔ان کی کمپنی کنگ فشر نے بھارتی بنکوں سے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالرز کا قرضہ لیا تھا۔بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ قرضے کی اس بھاری رقم کو واپس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

وجے مالیا کا کاروبار شہری ہوابازی سے شراب تیار کرنے تک پھیلا ہوا ہے۔وہ جولائی سے قبل فارمولا ون موٹر کار میں حصہ لینے والی ٹیم فورس انڈیا کے شریک مالک تھے۔انھوں نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف سیاسی بنا پر مقدمہ بنایا گیا ہے۔

لندن کی عدالت کی جج اور انگلینڈ کی چیف مجسٹریٹ ایما آربتھنوٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ بظاہر وجے مالیا کے خلاف درست پر کیس درج کیا گیا ہے۔اگر انھیں برطانیہ سے بے دخل کیا جاتا ہے تو ان کے انسانی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہییں۔ انھوں نے اپنے حکم میں مزید کہا ہے کہ ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ پتا چلتا ہو کہ ان کے خلاف سیاسی بنیاد پر کیس بنایا گیا تھا۔

وہ مارچ 2016ء میں بھارت سے برطانیہ چلے گئے تھے اور برطانوی پولیس نے انھیں اپریل 2017ء میں گرفتار کیا تھا ۔اب خاتون جج کے اس حکم کو منظوری کے لیے وزیر داخلہ کے پاس بھیجا جائے گا۔ وجے مالیا اس فیصلے کے خلاف لندن کی ہائی کورٹ میں چودہ روز اپیل دائر کرسکتے ہیں۔وہ وزیر داخلہ کی منظوری کے خلاف بھی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

اگر برطانیہ وجے مالیا کو بے دخل کرکے بھارت کے حوالے کردیتا ہے تو یہ بھارتی وزیراعظم نریندر مود ی کی ملک میں آیندہ سال پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے قبل ایک بڑی فتح ہوگی۔حزب اختلاف کی جماعتیں ان کی حکومت پر یہ الزام عاید کرتی رہی ہیں کہ انھوں نے وجے مالیا کو ملک سے فرار کے لیے آزاد راستہ دیا تھا ۔ تاہم مودی حکومت نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں