روس کا اول نمبر کا قاتل سابق پولیس اہل کار نے 78 افراد کو موت کی نیند سلایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس میں ایک سابق پولیس اہل کار کو قتل کے 56 جرائم کے سلسلے میں قانونی طور پر قصور وار ٹھہرا گیا ہے۔ اس شخص کو 22 خواتین کے قتل کے الزام میں 2015 میں پہلے ہی عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

روسی جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرکتسک کی ایک عدالت نے میخائل بوبکوف نامی شخص کو 1992 سے 2007 کے درمیان 56 افراد کو موت کی نیند سلا دینے کے جرم میں سزا سنائی ہے۔

اس طرح مجموعی طور پر 78 افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد بوبکوف نے روس میں دیگر دو سفاک قاتلوں کا سب سے زیادہ قتل کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

جنرل پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ بوبکوف پر اپنے دس شکاروں کی آبرو ریزی کے حوالے سے بھی فرد جرم عائد کی گئی۔

سابق پولیس اہل کار کو ایک بار پھر عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ یہ سزا اس پہلی عمر قید کے علاوہ ہے جو بوب کوف ابھی گزار رہا ہے۔

بوبکوف نے 22 خواتین کی آبرو ریزی اور قتل کے الزام کے بعد اس مرتبہ مزید 59 جرائم کے ارتکاب کا اقرار کیا تاہم پولیس ان میں سے 3 جرائم کی تصدیق نہیں کر سکی۔ بوبکوف اپنی ملازمت کے زمانے میں خواتین کو رات میں سیر و تفریح کے لیے بلاتا تھا اور پھر انگارسک شہر کے باہر ڈیوٹی کے اوقات کے باہر پولیس کی گاڑی میں ان خواتین کو موت کی نیند سلا دیتا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ بوبکوف نے اپنے ہی مرتکب بعض جرائم کی تحقیقات میں حصہ لیا تا کہ خود پر سے شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔

روس میں معروف بڑے قاتلوں میں آندرے چیکاتیلو کو 1994 میں موت کی سزا دی گئی۔ اس پر 53 نوجوانوں اور بچوں کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ اس کے علاوہ 2007 میں ایک اور قاتل ایلگزینڈر بیچوشکین کو ماسکو میں 48 افراد کو قتل کرنے پر عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں