.

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی سعودی عرب مخالف مہم پر اہم سوالات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینٹ کے ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن ارکان کے ایک گروپ نے ایک قرارداد متعارف کرائی ہے،اس کے ذریعے و ہ مشرقِ اوسط میں امریکا کے قریبی اتحادی ملک سعودی عرب کے داخلی امور میں مداخلت چاہتے ہیں۔ان کی تحریک کے بعد بعض امریکی سینیٹروں کی سعودی عرب دشمنی کے حوالے سے سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ وہ کیوں اس کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔بعض امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی اس قرارداد سے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم اس وقت سعودی عرب کے خلاف مہم میں سب سے آگے ہیں اور وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کو مملکت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک جواز اور حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ان کے ساتھ ایران اور قطر کے دوست ری پبلکن سینیٹر باب کروکر بھی سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے میں اپنی سی سعی کررہے ہیں۔

تاہم بعض امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ سبق نہیں سیکھا ہے۔کنزرویٹو ریویو کے قومی سلامتی کے نامہ نگار اور ڈوزئیر برائے سی آر ٹی وی کے ایڈیٹر جورڈن شچل امریکا کی اقتدار کی راہدایوں میں سنائی دینے والے امور کو اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم امریکی قانون سازوں کے لیبیا میں غلط مشوروں کے مضمرات کو مشاہدہ کرچکے ہیں اور ان کے نتائج بھگت چکے ہیں۔وہاں سینیٹر گراہم ، روبیو اور دوسروں نے صدر براک اوباما کے معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔

ان کی رائے میں قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد القاعدہ اور داعش ایسے گروپوں کو تقویت ملی اور ایک ایسا ماحول پیدا ہوا جس کے نتیجے میں لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں سفیر کرسٹوفر اسٹوینز سمیت چار امریکی ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر میں بھی رجیم تبدیلی کے حامی اس اتحاد نے قاہرہ میں الاخوان المسلمون کے برسراقتدار آنے پر خوشیاں منائی تھیں۔شچل کہتے ہیں کہ اس کے بعد مصر میں طوائف الملوکی اور تشدد کا دور دورہ ہوا تھا ۔خواتین اور قبطی عیسائیوں پر حملے کیے گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں سینیٹر گراہم کی قرارداد سے سعودی عرب کے دشمن دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں کو فائدہ پہنچے گا۔مثال کے طور پر اس مجوزہ قرارداد میں سعودی عرب پر زور دیا گیا ہے کہ وہ یمن میں جاری جنگ کے مسئلے پر حوثی تحریک کے نمایندوں سے براہ راست بات چیت کرے لیکن اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے کہ حوثی باغی ایران کے حمایت یافتہ ایک دہشت گرد گروپ ہیں۔

قطر تنازع

قرارداد میں سعودی عرب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ اپنے تنازع کے سیاسی حل کے لیے جلد سے جلد مذاکرات کرے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ قطر دنیا بھر میں دہشت گرد گروپوں کا حامی ملک ہے لیکن امریکا کی دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹروں کا گروپ اس پر دباؤ ڈالنے کے بجائے الٹا سعودی عرب کو مجبور کررہا ہے کہ وہ قطر سے سفارتی تعلقات بحال کرے۔

قطر کی اس انداز میں حمایت کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس خلیجی ریاست سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات اور فرمیں سینیٹر گراہم کی ریاست جنوبی کیرولینا میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں۔فروری میں سینیٹر گراہم نے قطر کے اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ جنوبی کیرولینا میں بالمشافہ ملاقاتیں کی تھیں اور ان سے ریاست میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

جورڈن شچل نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ سینیٹر لنڈسے گراہم کی سعودی عرب کے خلاف مہم جوئی کے تجزیے سے قبل یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے حوالے سے غلط فیصلوں کا ایک طویل ریکارڈ رکھتے ہیں۔میں ان کی سعودی عرب مخالف مہم کے حوالے سے کوئی پیشین گوئی نہیں کرسکتا لیکن ان کی جانب سے خاص طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی حد سے بڑھی ہوئی مخالفت بہت چونکا دینے والی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ محمد بن سلمان سعودی عرب میں غیر معمولی اصلاحات کا نفاذ کررہے ہیں ۔وہ ایک قابل اعتماد شراکت دار ہیں اور امریکا کے ایک اہم اتحادی ہیں۔ لنڈسے گراہم کی ان کے خلاف مہم بالکل گمراہ کن ہے۔اس سے خطے میں امریکا کے موقف اور مفادات کو نقصان پہنچے گا‘‘۔