.

دنیا یزیدیوں کو تحفظ مہیا کرے: نوبل امن انعام یافتہ نادیہ مراد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نوبل امن انعام یافتہ یزیدی کارکن اور داعش کے شکنجے سے بچ نکلنے والی نادیہ مراد نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی اقلیتی قوم کو تحفظ مہیا کرے اور داعش کے زیر قبضہ سیکڑوں خواتین اور لڑکیوں کو بازیاب کرائے۔

نادیہ مراد کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے ٹاؤن ہال میں سوموار کو منعقدہ ایک تقریب میں امن کا نوبل انعام دیا گیا ہے۔اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ یزیدیوں ( ایزدیوں) اور دنیا کی تمام مقہور کمیونٹیوں کو تحفظ مہیا کرنا عالمی برادری کی ذمے داری ہے‘‘۔

ان کے ساتھ اس سال کا نوبل امن انعام کانگو کے ڈاکٹر ڈینس مکویج کو دیا گیا ہے۔انھوں نے جنگ زدہ عوامی جمہوریہ کانگو میں دو عشرے سے زیادہ عرصے تک عصمت ریزی کا نشانہ بننے والی اور زخمی ہونے والی خواتین کا علاج کیا تھا ۔ دکھی انسانیت کی اس خدمت کے اعتراف میں انھیں اس سال کے امن نوبل انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے۔

نوبل کمیٹی کی چئیر پرسن بیرٹ ریس اینڈرسن نے کہا کہ یہ دونوں شخصیات آج کی دنیا میں مضبوط آوازیں ہیں۔انصاف کے لیے جدوجہد نے انھیں متحد کردیا تھا حالانکہ دونوں کا مختلف پس منظر ہے۔وہ جب یزیدیوں کے مصائب کا ذکر کررہی تھیں تو اسٹیج پر بیٹھی نادیہ رو دیں۔

واضح رہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے جون 2014ء میں شمالی عراق میں یلغار کے بعد نادیہ مراد کی کرد بولنے والی یزیدی اقلیت کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنایا تھا۔ یزیدیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے نکال باہر کیا تھا او ر ہزاروں کو گرفتار کر لیا تھا۔داعش نے بہت سے بوڑھے مرد وخواتین کو سرسری سماعت کے بعد موت کی نیند سلا دیا تھا۔اقوام متحدہ نے ان کی قتل وغارت کو یزیدیوں کی ممکنہ نسل کشی قرار دیا تھا۔

خود نادیہ مراد کو 2014ء میں داعش نے گرفتار کر لیا تھا۔ایک داعشی جنگجو نے اس سے جبری شادی کی،اس کو تشدد اور اجتماعی عصمت ریزی کا نشانہ بنایا لیکن وہ کسی طرح ان کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

نادیہ نے نوبل امن انعام وصول کرتے وقت اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ان کی کمیونٹی کی ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کو اس اکیسویں صدی میں ، عالمگیریت اور انسانی حقوق کے دور میں اغوا کیا گیا ،ان کی عصمت ریزی اور انسانی تجارت کی گئی ہے۔ان میں قریباً تین ہزار خواتین اور لڑکیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا’’ نوجوان لڑکیوں کو ان کی زندگی کے سنہرے دور میں فروخت اور خرید کیا گیا ہے،انھیں یرغمال بناکر ہر روز عصمت ریزی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔یہ بات بالکل ناقابل یقین ہے کہ دنیا کے 195 ممالک کے لیڈروں کا ضمیر ان لڑکیوں کو آزاد کرانے کے لیے بیدار نہیں ہوا ہے‘‘۔