گیمبیا کے سابق صدر کو امریکا میں آنے کی اجازت کیوں نہ ملی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغربی افریقا کے ملک گیمبیا کے سابق صدر اور ان کے اہل خانہ کو امریکا نے گذشتہ روز اپنے ہاں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ امریکی دفتر خارجہ کے بیان میں گیمبیا کے سابق صدر یحییٰ جامع پر بدعنوانی اور حزب اللہ سمیت دہشت گرد تنظیموں سے رابطے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق قانون کی شق 7031[G] امریکا میں ایسے افراد کی آمد کی اجازت نہیں دیتی اس لئے گیمبیا کے سابق صدر اور ان کے اہل خانہ کو امریکا سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔

مذکورہ قانون میں ایسے حالات کا بیان ملتا ہے کہ جن میں وزیر خارجہ کے پاس غیر ملکی عہدیداروں کی نمایاں بدعنوانی یا پھر انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہوں تو ایسے افراد اور ان کے اہل خانہ امریکا آنے کے اہل نہیں ہوتے۔

امریکی قانون وزیر خارجہ پر شرط عائد کرتا ہے کہ وہ ایسے عہدیداروں اور ان کے اہل وعیال کو ایسے فیصلے سے متعلق اعلانیہ یا خصوصی طریقے سے آگاہ کرے۔

دفتر خارجہ کا یہ بیان امریکی وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دہشت گرد قرار دیئے گئے حزب اللہ کے ایک رہنما محمد ابراہیم بزی اور گیمبیا کے سابق صدر کے درمیان تعلقات مترشح ہوتے تھے۔ سابق صدر یحییٰ جامع کرپشن کے متعدد الزامات میں ماخوذ تھے۔

امریکی وزارت قانون کے مطابق حزب اللہ کے مالی سہولت کار قاسم تاج الدین نے واشنگٹن عدالت کے سامنے خود پر عائد الزامات کو درست تسلیم کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے گیمبیا کے صدر یحییٰ جامع ابراہیم بزی کا شریک جرم رہے ہیں۔ دونوں مل کر شامی مہاجر کیمپوں سے مہاجر خواتین کی خرید وفروخت کا کام کرتے تھے اور انسانی سمگلنگ کے اس ذریعے سے حاصل ہونے والی رقم حزب اللہ کو بطور اعانت پیش کی جاتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق گیمبیا کا شمار ان سرکردہ ملکوں میں ہوتا ہے جہاں بچوں اور خواتین کی تجارت عروج پر ہے۔ ان افراد کو جبری مشقت اور جنسی ہوس کی تکمیل کے لئے پیش کیا جاتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں