.

’’بریگزٹ معاملے پر یورپ، برطانیہ سے دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے اعلان کیا ہے کہ برسلز میں جمعرات کو منعقد ہونے والے یورپی سمٹ میں بریگزٹ کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان اس معاہدے پر دوبارہ بات چیت خارج از امکان ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سایٹ ’ٹویٹر‘ پر اپنے پیغام میں مسٹر ٹسک کا کہنا تھا کہ ’’برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کی جانب سے بریگزٹ کے معاملے پر پارلیمنٹ میں رائے شماری ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد یورپی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاہدے، بشمول سیکیورٹی پہلو، پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ تاہم انھوں نے اس امر کی جانب ضرور اشارہ کیا کہ یورپی یونین کیونکر معاہدے کی تصدیق کے لئے برطانیہ کی مدد کر سکتا ہے۔‘‘

اعلیٰ یورپی عہدیدار نے بریگزٹ کے موضوع پر تھریسا مے کی جانب سے سوموار کو ہونے والی رائے شماری کے التواء کے بعد 27 یورپی ملکوں کی قیادت سے مشاورت کی۔

درایں برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے یورپین یونین سے علیحدہ ہونے کے معاہدے پر پارلیمنٹ میں یقینی شکست کو دیکھتے ہوئے ووٹنگ کرانے سے روک لیا ہے۔ لیکن وزیرِ اعظم نے تاحال ووٹنگ کے لیے کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

تھریسا مے کے اس اعلان کے بعد برطانیہ میں بے یقینی کی حالت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ بریگزٹ کے معاہدے پر رائے شماری کے بعد بے یقینی کم ہوجائے گی۔

تاہم ووٹنگ کے ملتوی کیے جانے سے بریگزٹ معاہدے کی شکست سے تو بچ گئی ہیں لیکن یہ التوا برطانوی پاؤنڈ کی قیمت کو گرنے سے نہ روک سکا۔

اس وقت پاؤنڈ کی قدر ایک ڈالر اور چھبیس سینٹس قیمت گرچکی ہے جو گذشتہ اٹھارہ ماہ میں سب سے کم قیمت ہے۔