.

آسٹریلیا کا تل ابیب میں قائم سفارت خانہ القدس منتقل کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کی حکومت نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں‌موجود اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پر غور شروع کیا ہے۔

آسٹریلوی حکومت کے با خبر ذرائع کے مطابق منگل کو کابینہ کے اجلاس میں اس بات پرغور کیا گیا کہ آیا آسٹریلیا کو اپنا سفارت خانہ القدس منتقل کرنا چاہیے یا نہیں۔ اگر اسرائیل ایسا کرتا ہے تو اس کی اسرائیل کے حوالے سے برسوں پر پھیلی پالیسی تبدیل ہوجائے گی جب کہ اس کے نتیجے میں آسٹریلیا کے ایشیائی ہمسائے ملک سخت برہمی کا اظہار کرسکتے ہیں۔

آسٹریلوی حکومت کے ایک ذمہ دار ذریعے نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ منگل کوکابینہ کے اجلاس میں تل ابیب سے سفارت خانہ القدس منتقل کرنے پر غور کیا گیا تاہم فی الحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ تل ابیب سے سفارت خانے کی مشرقی یروشلم منتقل کرنے کےحوالے سے کھلے پن کا مظاہرہ کریں گے۔

رواں سال مئی میں امریکا نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کردیا تھا۔ اس اقدام نے فلسطینی عوام نے سخت غم وغصے کا اظہار کیاجب کہ عرب ممالک اور ان کے مغربی اتحادیوں‌نے بھی امریکی فیصلے کو مسترد کردیا تھا۔

آسٹریلوی اخبار"دی آسٹریلین" کے مطابق کابینہ کے متعدد سرکردہ وزربیت المقدس کس اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حق میں ہیں اور وہ تل ابیب سے سفارت خانہ القدس منتقل کرانا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اسرائیل القدس کے معاملے میں سابقہ معاہدوں کے برعکس اپنی ہٹ دھرمی اور من مانی پرعمل پیرا ہے۔ صہیونی ریاست نے مشرقی بیت المقدس پر سنہ 1967ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا اور اس کے بعد اس مقدس شہر پراپنا تسلط مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

دوسری جانب فلسطینی القدس کو اپنی مجوزہ آزاد ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔