.

سعودی عرب کا بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے ساتھ واقع ممالک کی تنظیم کے سمجھوتے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے ساتھ واقع ممالک کی ایک تنظیم کے قیام کے لیے سمجھوتا طے پانے کا ا علان کیا ہے۔

سعودی عرب کے ایک سرکاری بیان کے مطابق اس ادارے کے قیام سے بحیرہ احمر کے ساتھ واقع ممالک کے لیے سکیورٹی ، سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

بحیرہ احمر کے ممالک کی تنظیم کا قیام سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا تجویز کردہ اقدام ہے۔اس کا مقصد خطے میں استحکام کا حصول ہے۔اس تنظیم میں سعودی عرب کے علاوہ مصر ، سوڈان ، جیبوتی ، یمن ، صومالیہ اور اردن شامل ہوں گے۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے الریاض میں اس سمجھوتے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی دارالحکومت میں الیمامہ محل میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے بدھ کے روز مصری وزیر خارجہ سامح الشکری ، جمہوریہ جیبوتی کے وزیر خارجہ محمود علی یوسف ، صومالی وزیر خارجہ احمد عیسیٰ عوض ،سوڈانی وزیر خارجہ الدیر دیری محمد الدخیری ،جمہوریہ یمن کے نائب وزیر خارجہ محمد بن عبداللہ الحضرمی اور اردن کی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل زید مفلح اللوزی نے ملاقات کی ہے۔

اس موقع پر سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف ، وزیر مملکت برائے کابینہ امور ڈاکٹر مساعد بن محمد بن العیبان ، وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبیر وزیر مملکت برائے امور افریقا احمد بن عبدالعزیز بھی موجود تھے۔