.

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان کی حمایت کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان کی حمایت کے موقف کا اعادہ کیا ہے۔انھوں نے منگل کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ وہ ( ولی عہد محمد بن سلمان) سعودی عرب کے لیڈر ہیں۔وہ ہمارے بہت اچھے اتحادی ہیں‘‘۔

ان سے جب برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے سوال کیا کہ کیا سعودی عرب کا ساتھ دینے کا مطلب ولی عہد کا ساتھ دینا ہے ؟اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا:’’ جی ہاں ،اس کا یقیناً یہی مطلب ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ ’’ سعودی ولی عہد جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کی دوٹوک انداز میں تردید کرچکے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ نے سترہ سعودی شہریوں پر 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کےا لزام میں پابندیاں عاید کردی ہیں۔

امریکی سینیٹ اسی ہفتے جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے ایک مشترکہ قرارداد پر غور کررہی ہے۔اگر کانگریس اس قراردا د کو منظور کر لیتی ہے تو صدر کے پاس اس کی توثیق اور استرداد دونوں کا اختیار ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ سینیٹروں سے ملاقات کریں گے۔

انھوں نے انٹرویو میں مزید کہا :’’ میں یہ امید کرتا ہوں ، یہ لوگ کوئی ایسی تجویز پیش نہیں کریں گے کہ جس سے ہم سیکڑوں ارب ڈالرز سے محروم ہوجائیں اور یہ روس اور چین کے ہاتھ لگ سکتے ہیں‘‘۔

امریکی صدر نے یمن کی صورت حال سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یمن کے بارے میں ، میں بہت کھلے ذہن کا مالک ہوں کیونکہ وہاں جو کچھ ہورہا ہے،میں اس سے نفرت کرتا ہوں لیکن وہاں دو کام ہونے چاہییں۔میں ایک تو یہ چاہتا ہوں کہ ایران یمن کو خالی کردے اور وہ ( عرب اتحاد) بھی اس کو خالی کردیں گے‘‘۔

صدر ٹرمپ نے یہ گفتگو ایسے وقت میں کی ہے جب امریکی سینٹ کے ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن ارکان پر مشتمل ایک چھوٹا گروپ ایوانِ بالا میں ایک قرارداد پر رائے شماری کے لیے کوشاں ہے،اس کے ذریعے و ہ مشرقِ اوسط میں امریکا کے قریبی اتحادی ملک سعودی عرب کے داخلی امور میں مداخلت چاہتے ہیں۔

ان کی تحریک کے بعد بعض امریکی سینیٹروں کی سعودی عرب دشمنی کے حوالے سے سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ وہ کیوں اس کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔بعض امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی اس قرارداد سے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

ان امریکی سینیٹروں میں لنڈسے گراہم سعودی عرب کے خلاف مہم میں سب سے آگے ہیں اور وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کو مملکت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک جواز اور حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ان کے ساتھ ایران اور قطر کے دوست ری پبلکن سینیٹر باب کروکر بھی سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے میں اپنی سی سعی کررہے ہیں۔تاہم بعض امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ سبق نہیں سیکھا ہے۔