.

یمنی وفد نے اقوام متحدہ کے ساتھ الحدیدہ کی مشترکہ نگرانی کی تجویز مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈ ن میں جاری یمن مذاکرات میں شریک حکومت کے وفد نے اقوام متحدہ کی جانب سے الحدیدہ شہر کی مشترکہ نگرانی کے لیے پیش کردہ تجویز مسترد کردی ہے اور اس کے قابل عمل ہونے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے الحدیدہ شہر سے حوثی ملیشیا اور یمن کی سرکاری فوج کے انخلا کے بعد شہر کے انتظام کے لیے ایک ’’مشترکہ ادارے‘‘ کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔

یمنی حکومت کے وفد کے رکن اور وزیر ثقافت مروان دماج نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس تجویز سے قانونی اور ادارہ جاتی مسائل پیدا ہوں گے اوراس کو نافذ نہیں کیا جاسکے گا بلکہ اس نئی اتھارٹی کی ساکھ کے حوالے سے اضافی مسائل پیدا ہوں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ حکومت حوثی ملیشیا کو شہر سے نکال باہر کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور اس نے شہر کے کیمپوں میں مسلح افواج کی ازسرِ نو تعیناتی کی تجویز پیش کی ہے۔اس کے علاوہ شہر میں امن وامان کے قیام کے لیے سکیورٹی اداروں کو وزارت داخلہ کے تحت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کے نواح میں واقع علاقے ریمبو یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس کی نگرانی میں بدھ کو بھی مذاکرات جاری ہیں۔ ان میں الحدیدہ ، تعز ، صنعاء کے ہوائی اڈے ، اقتصادی صورت حال اور بات چیت کے فریم ورک سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔آج ان مذاکرات میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کی شرکت متوقع تھی۔