.

یمن میں ملنے والے میزائل ایران میں تیار کیے گئے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں عرب اتحاد کو ٹینک شکن میزائل داغنے کے جو دو یونٹس ملے ہیں انہیں 2016 یا 2017 میں ایران میں تیار کیا گیا۔

تاہم اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس نے اس بات کا تعین نہیں کیا کہ آیا یمن میں مذکورہ دونوں یونٹوں کا انکشاف جنوری 2016 سے نافذ العمل اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے یا نہیں۔

یہ قرارداد ایران کو سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر ہتھیاروں یا ان سے متعلق مواد درآمد یا برآمد کرنے کو ممنوع قرار دیتی ہے۔

گوتیریس نے ایران پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے سلامتی کونسل کو پیش کی گئی اپنی شش ماہی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے سامنے یہ بات آئی ہے کہ دونوں یونٹس ایرانی ساخت کی خصوصیات کے حامل ہیں اور ان پر موجود علامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں 2016 یا 2017 میں تیار کیا گیا۔ گوتیریس کے مطابق عرب اتحاد کو ملنے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کو جزوی طور پر کھول کر دیکھا گیا تو اس کی خصوصیات بظاہر ایرانی میزائل کی خصوصیات کے مطابق تھیں۔

سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ سلامتی کونسل میں گوتیریس کی یہ رپورٹ بدھ کے روز زیر بحث آئے گی۔

گوتیریس کے مطابق اقوام متحدہ نے تین دیگر بیلسٹک میزائلوں کے ملبے کا بھی معائنہ کیا جو 25 مارچ اور 11 اپریل 2018 کو سعودی عرب پر داغے گئے تھے۔ ان میزائلوں کے ڈیزائن کی مرکزی خصوصیات ایران کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل قيام-1 سے ملتی جلتی ہیں۔ تاہم گوتیریس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اس بات کا تعین نہیں کر سکتی کہ آیا یہ امر عالمی تنظیم کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے کیوں کہ ان میزائلوں کی یمن منتقلی کا وقت معلوم نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں میں سے زیادہ تر کو جنوری 2016 میں اٹھا لیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی اس تصدیق کے بعد سامنے آئی جس میں باور کرایا گیا تھا کہ تہران چھ بڑی طاقتوں (برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، روس اور امریکا) کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے پر کاربند ہے۔ تاہم ایران کو ابھی تک اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کردہ ہتھیاروں سے متعلق پابندی اور دیگر قیود کا سامنا ہے۔