.

سویڈن امن مذاکرات میں طے شدہ سمجھوتے پر کیسے عمل درآمد کیا جائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی قانونی حکومت اور حوثی باغیو ں کے درمیان ساحلی شہر الحدیدہ میں جنگ بندی کے لیے ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔اس کے تحت اقوام متحدہ الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہوں کےانتظام میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے سویڈن کے علاقے ریمبو میں سات روزہ امن مذاکرات کے اختتام پر نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’ آپ کے درمیان الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہ کے بارے میں ایک سمجھوتا طے پایا ہے۔اس کے تحت دونوں طرف کی فورسز کو بندرگاہ اور شہر سے واپس بلا لیا جائے گا اور اس پوری گورنری میں جنگ بندی ہوگی‘‘۔

انھوں نے اپنے دائیں بائیں کھڑے یمنی وفود کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔انھوں نے بتایا کہ اب یمنی تنازع پر امن مذاکرات کا دوسرا دور جنوری کے آخر میں ہوگا۔

سویڈن میں منعقدہ مذاکرات کے پہلے دور میں طے شدہ سمجھوتے پر عمل درآمد کا ٹائم فریم اور تنازع کے دونوں فریقوں کی ذمے داریاں حسب ذیل ہیں:

* حوثی ملیشیا الحدیدہ ، الصلیف اور راس عیسیٰ کی بندرگاہوں کو خالی کردے گی اور سمجھوتے کے بعد چودہ دن کے اندر صنعاء کی شاہراہ کے شمال کی جانب چلی جائے گی۔

*یمنی حکومت کے تحت فورسز کو فوری طور پر الحدیدہ سے واپس بلا لیا جائے گا اور انھیں حد متارکہ جنگ کے جنوبی جانب تعینات کیا جائے گا۔

* دوسرے مرحلے میں حوثی ملیشیا سمجھوتے کے بعد اکیس روز میں الحدیدہ شہر کو مکمل طور پر خالی کردے گی اور شہر کے شمالی جانب چلی جائے گی۔

* یمنی قانون کے تحت الحدیدہ شہر اور الحدیدہ ، الصلیف اور راس عیسیٰ کی بندرگاہوں کی سکیورٹی کی ذمے داری یمنی سکیورٹی فورسز کی ہوگی۔

*(اقوام متحدہ اور یمنی حکومت کی ) اتھارٹی کے تحت قانونی ٹریک کا احترام کیا جانا چاہیے اور مقامی اداروں کے کام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مشکل حائل نہیں ہونی چاہیے۔حوثیوں کی نگرانی سمیت تمام رکاوٹوں کو ختم کیا جانا چاہیے۔