.

ہم یمنی بحران کے اختتام کا آغاز دیکھ رہے ہیں: انتونیو گوٹیریس

سویڈن امن مذاکرات میں یمن کے متحارب فریقوں نے حقیقی پیش رفت کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے کہا ہے کہ سویڈن میں منعقدہ امن مذاکرات میں جنگ زدہ ملک کے متحارب فریقوں نے حقیقی پیش رفت کی ہے اور یہ یمنی عوام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ ہم یمنی بحران کے اختتام کا آغاز دیکھ رہے ہیں‘‘۔

وہ جمعرات کو سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کے نواح میں واقع علاقے ریمبو میں یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے وفود کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں سات روزہ امن مذاکرات کے اختتام پر نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ان مذاکرات کا گذشتہ جمعرات کو آغاز ہوا تھا۔

انھوں نے کہا:’’ وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ یمن کی قانونی حکومت اور حوثیوں کی نمایندگی کرنے والے یمنی وفود نے ان مذاکرات میں حقیقی پیش رفت کی ہے‘‘۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے سویڈنو میں ہونے والے ان امن مذاکرات کے نتائج کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

انتونیو گوٹیریس نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے شہر الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ کے انتظام کے حوالے سے متحارب فریقوں میں ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔اس سے لاکھوں یمنیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کی ایک خاتون ترجمان نے صحافیو ں کو بتایا تھا کہ یمنی تنازع پر بالواسطہ مذاکرات کرنے والے فریقوں کو چار سمجھوتوں کے مسودے دیے گئے ہیں اور توقع ہے کہ وہ آج شام تک اپنے اپنے ردعمل سے آگاہ کردیں گے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ سویڈن میں منعقدہ امن مذاکرات کے نتائج وحاصلات کو جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔