.

امریکا میں سزائے موت نہ ہونے کے برابر رہ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں سال 2018ء کے دوران سزائے موت پر عمل درآمد کے فیصلوں میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزائوں پر بہت کم عمل درآمد کیا گیا ہے۔

امریکا میں سزائے موت سے متعلق معلومات جمع کرنے والے مرکز کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں‌ کہا گیا ہے کہ رواں سال کے دوران صرف 25 افراد کو امریکا میں سزائے موت دی گئی۔ یہ تعداد ماضی کے برسوں میں دی جانے والی سزائوں کی نسبت بہت کم ہے۔

امریکا کی تمام ریاستوں میں سزائے موت کا قانون نہیں۔ جو ریاستیں اپنے طور پر سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد کر رہی ہیں وہاں بھی اس رحجان میں تیزی کے ساتھ تبدیلی آ رہی ہے۔ امریکی ریاست واشنگٹن ان 20 ریاستوں میں شامل ہوچکی ہے جہاں سزائے موت منسوخ کر دی گئی ہے۔

دیگر 30 امریکی ریاستوں میں ٹیکساس میں 13 ملزمان کو رواں سال سزائے موت دی گئی۔ دیگر ریاستوں میں سنہ 1991ء کے بعد سب سے کم موت کی سزائیں دی گئیں۔

رواں سال کے دوران 42 ملزمان کو امریکی عدالتوں سے موت کی سزائیں سنائی گئیں جب کہ 1996ء میں ایک سال کے دوران 315 ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر 2017ء کو امریکا میں ایک چرچ پر حملے کے میں 11 افراد کی ہلاکت کے بعد ملزمان کو سزائے موت دینے کی حمایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عبادت گاہوں میں خون خرابہ کرنے والوں کو کڑی سزائیں دی جانی چاہئیں۔ انہوں‌ نے پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے والے شدت پسندوں اور منشیات کے اسملگروں کو بھی سزائے موت دینے کی سفارش کی۔