.

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں فوج کی فائرنگ اور جھڑپوں میں 10افراد شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہفتے کے روز فوجیوں کی مظاہرین پر فائرنگ اور جھڑپوں میں تین حرّیت پسندوں سمیت دس کشمیری شہید جبکہ ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔

ایک پولیس افسر سیویام پرکاش پنی نے بتایا ہے کہ مقبوضہ ریاست کے جنوبی ضلع پلوامہ میں واقع ایک گاؤں بھارتی فوج اور حریت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔ تین حریت پسند جنگجو ایک مکان میں چھپے ہوئے تھے جس کا بھارتی فوجیوں نے محاصرہ کرلیا۔ جھڑپ میں وہ تینوں مارے گئے ہیں۔

جب گاؤں میں جھڑپ جاری تھی تو وہاں شدید سردی کے باوجود سیکڑوں دیہاتی جمع ہوگئے ۔ عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے حرّیت پسندوں کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی تھی اور فوجیوں کی جانب پتھراؤ کیا۔

بھارتی پولیس کے ایک اور افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’’گاؤں میں بد امنی کا سماں تھا اور فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ شروع کردی جس سے چھے مظاہرین مارے گئے ہیں‘‘۔اسپتال کے حکام نے بتایا کہ فائرنگ سے شدید زخمی ایک شخص بعد میں توڑ گیا ہے۔

ایک مانیٹرنگ گروپ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اس سال اب تک بھارتی فورسز کی کارروائیوں میں کم سے کم 550افراد شہید ہوچکے ہیں۔ان میں 150عام شہری تھے۔ریاست میں 2009ء کے بعد ایک سال میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔بھارت کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال 230 جنگجو مارے گئے ہیں۔ان میں زیادہ تر وادیِ کشمیر سے تعلق رکھتے تھے او ر وہ مختلف جہادی گروپوں میں شامل ہوکر بھارتی فوج کے خلاف لڑرہے تھے۔

واضح رہے کہ جولائی 2016ء میں ایک کرشماتی حریت لیڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔بھارتی فوج جہاں کہیں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو وہاں سیکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں دیہاتی جمع ہوجاتے ہیں اور وہ مسلح جنگجوؤں کو بھارتی سکیورٹی فورسز کے نرغے سے فرار کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس مسلم اکثریتی ریاست میں کشمیریوں نے تین عشرے قبل بھارتی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی تھی اور1989ء سے بھارت کی حکمرانی کے خلاف جاری اس تحریک کے دوران میں 70 ہزار سے زیادہ کشمیری مارے جاچکے ہیں۔