.

الحدیدہ میں شدید جھڑپوں کے دوران 22 حوثی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ سویڈن میں امن بات چیت کے ضمن میں فائر بندی کے سمجھوتے کے باوجود ملک کے مغربی صوبے الحدیدہ میں شدید جھڑپیں بھڑک اٹھیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے یمن کی آئینی حکومت کے قریبی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ صوبے میں ہفتے کی شب ہونے والے فضائی حملوں اور جھڑپوں میں 22 حوثی مارے گئے۔

دوسری جانب دارالحکومت صنعاء میں سکیورٹی ذرائع اور مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا وسیع پیمانے پر قومی سلامتی کے انٹیلی جنس ادارے کے افسران کو گرفتار کر رہی ہے۔ حوثیوں کو ان افسران کی جانب سے اپنے خلاف بغاوت کا اندیشہ ہے۔

ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حوثی ملیشیا قومی سلامتی کے ادارے سے تعلق رکھنے والے بقیہ افراد کے گھروں پر اچانک چھاپے مار کر ان کے موبائل فون کی تلاشی لے رہی ہے۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ان میں سے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو قوی اندیشہ ہے کہ قومی سلامتی کا ادارہ ان کے کنٹرول سے نکل جائے گا۔