.

انفارمیشن آپریشنز کے میدان میں امریکی فوج کا نیا طریقہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج نے اپنے اہل کاروں کی رہ نمائی کے لیے ایک نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے جو انہیں سادہ سی کارروائیاں انجام دینے مثلا سڑک کا نقشہ بنانے وغیرہ کے لیے معلومات فراہم کرے گا۔

انگریزی ویب سائٹ "Fifth Domain"کے مطابق یہ نقشہ بتائے گا کہ آیا سڑک پر اقوام متحدہ کا کوئی نمائندہ قریب موجود ہے۔ یا اس مقام پر کوئی قدرتی آفت واقع ہوئی یا پھر عمارات یا گاڑیوں وغیرہ کی دیواروں پر کس نوعیت کی تصاویر اور تحریریں پائی جاتی ہیں۔

مذکورہ ہدایت نامے کو The Conduct of Information Operations کا نام دیا گیا ہے اور یہ 118 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں امریکی فوج کی اُن تدابیر کو واضح کرنے والے اقدامات کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو وہ مستقبل میں سائبر اور انفارمیشن وار کے حوالے سے اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

امریکی فوج میں ہتھیاروں کے مشترکہ مرکز میں پبلک افیئرز کے افسر لیفٹننٹ کرنل جوئے سولینگر کے مطابق یہ ہدایت نامہ فوج کے افسران اور عسکری اہل کاروں کو اپنے یونٹوں میں انفارمیشن آپریشنز یعنی IO کو مؤثر طور پر انجام دینے کے لیے مطلوب معلومات فراہم کرتا ہے۔

انفارمیشن وار سے متعلق امریکی فوج کا یہ ہدایت نامہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی عسکری حکام روایتی حملوں کے ساتھ سائبر اور انفارمیشن آپریشنز کو اکٹھا کرنے کی اہمیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے عہدے داران کے مطابق اس حکمت عملی کا آغاز 2014 کے اوائل میں پینٹاگون کے اس انکشاف کے بعد کیا گیا کہ روسی فوج نے یوکرین میں کس طرح سے روایتی کارروائیوں کے ساتھ سائبر اور انفارمیشن آپریشنز کو یکجا کیا۔

ہدایت نامے میں سوشل میڈیا کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہوئے اسے معلوماتی ماحول میں ایک غالب پہلو قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ ٹوئیٹر اور فیس بک جیسے پلیٹ فارم محض پروپیگنڈے کے لیے نہیں بلکہ انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کے واسطے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

کیلیفورنیا میں ایک تھنک ٹینک Rand کارپوریشن کے سوشل سائنٹسٹ کرسٹوفر پال کا کہنا ہے کہ ابتدا میں پینٹاگون انٹرنیٹ کے ذریعے انفارمیشن آپریشنز انجام دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھا کیوں کہ امریکی وزارت دفاع کی قیادت یہ نہیں چاہتی تھی کہ اُن کے پیغامات کسی ممکنہ غلطی سے امریکی شہریوں تک پہنچ جائیں۔

مذکورہ Rand کارپوریشن نے 2018 میں ایک تحقیقی مطالعہ انجام دیا تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ امریکی فوج انفارمیشن آپریشن کے میدان میں وہ برتری نہیں رکھتی جو وہ زمینی سطح پر رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس خلا کی وجوہات گنجائش، منصوبہ بندی اور حکام کے حوالے سے کمی ہے۔


مطالعے میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ اگر امریکی فوج انفارمیشن آپریشن کے میدان میں زیادہ مؤثر اور فعال بننا چاہتی ہے اور دیگر ممالک کی سطح تک پہنچنا چاہتی ہے تو اسے بعض اقدار اور بنیادی اصولوں میں تبدیلی لانا ہو گی۔