.

صدر ایردوآن کی ترکی میں پُرامن مظاہروں سے متعلق سوال اٹھانے پر ٹی وی پیش کار پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن ٹیلی ویژن کے ایک نیوز اینکر فتح پرتکال پر پھٹ پڑے ہیں۔اس نیوز اینکر نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا ترکی میں حکومت کے خوف کے بغیر کسی احتجاجی مظاہرے کا انعقاد ممکن ہے۔

تر ک ویب سائٹ احوال نیوز کے مطابق صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ ’’ بعض اخلاقی طور پر گرے ہوئے افراد لوگوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر نکلیں ۔ یہ کیا کم تر زندگی ہے۔عدلیہ ایسے لوگوں کو جواب دے گی‘‘۔ان کا اشارہ فتح پرتکال کی جانب تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’آپ کیا کررہے ہیں؟کیا یہ پیرس ہے؟ہر کسی نے جیز ی پارک کے مظاہروں اور 15 جولائی 2016ء کو بغاوت کی سازش کے دوران میں سبق سیکھا تھا۔انھیں اس کی بھاری قیمت چُکانا پڑے گی‘‘۔

فاکس ٹی وی کے نیوز اینکر پرتکال نے گذشتہ ہفتے ایک نشریے کے دوران میں کہا تھا کہ لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلنے سے خوف زدہ ہیں ۔انھوں نے انقرہ کے فرانس میں زرد صدری تحریک کے مظاہروں پر ردعمل پر تنقید کی تھی ۔ترک صدر نے فرانس میں پولیس کی مظاہرین کے خلاف کارروائی پر کڑی نکتہ چینی کی تھا اور کہا تھا کہ زرد صدری تحریک کے مظاہروں نے یورپ کی جمہوریت ، انسانی حقوق اور آزادی میں ناکامی ظاہر کردی ہے۔

فتح پرتکال نے ترک صدر کے جواب میں کہا تھا :’’ کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم یہ کرسکتے ہیں؟کتنے لوگ کسی خوف کے بغیر شاہراہوں پر نکل سکتے ہیں۔خدا کے لیے کیا آپ مجھے یہ بتا سکتے ہیں کہ کتنے لوگ مظاہرے کریں گے؟ وہ سوشل حزب اختلاف کی حوصلہ شکنی کی کوشش کررہے ہیں اور اس کو دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں۔احتجاج ایک فطری حق ہے لیکن اس کا عملی مظاہرہ نہیں کیا جاسکتا۔خواہ یہ ترکی ہو یا فرانس،اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے‘‘۔