رہا شدہ امریکی پادری سی آئی اے کا ایجنٹ تھا : ترک وزیر خارجہ کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو نے دوحہ فورم میں شرکت کے موقع پر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی پادری اینڈریو برونسن کوئی مذہبی مبلغ نہیں بلکہ امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کا ایجنٹ تھا۔

ترک وزیر خارجہ کے اس بیان کا امریکا میں مضحکہ اڑایا جا رہا ہے اور بعض نے اس کو مذاق قرار دیا ہے۔

مولود شاوش اوغلو نے کہا کہ’’ ہر کوئی اس پادری برونسن پر توجہ مرکوز کررہا تھا۔ وہ سی آئی اے کا ایجنٹ بھی تھا۔میں صدر ایردوآن کی طرح دوٹوک بات کرنے والا شخص ہوں لیکن ہمارے دوطرفہ تعلقات میں یہ ایک بہت معمولی معاملہ تھا۔ہمیں اس سے زیادہ سنگین مسائل درپیش ہیں‘‘۔

برونسن کو اکتوبر میں ترکی کی ایک عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ اس کے بعد وطن واپس جاچکے ہیں۔وہ دو سال تک جاسوسی اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت کے الزام میں ترکی میں زیر حراست رہے تھے۔

برونسن کو ترک عدالت نے دہشت گردی کی حمایت کے جرم میں تین سال اور ڈیڑھ ماہ کی قید کا حکم دیا تھا لیکن وہ 2016ء سے زیر حراست تھے اور قید کی یہ مدت بھگت چکے تھے،اس لیے عدالت نے انھیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق امریکی پادری عدالت کا یہ فیصلہ سننے کے بعد رو دیے تھے اور انھوں نے قبل ازیں عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ میں ایک بے گناہ شخص ہوں اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ترکی سے محبت کرتا ہوں‘‘۔

عیسائی مذہب کے مبلغ برونسن امریکا کی ریاست شمالی کیرولینا سے تعلق رکھتے تھے اور وہ ترکی میں بیس سال سے زیادہ عرصے سے مقیم رہے تھے۔ان کی گرفتاری پر امریکا نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر سخت احتجاج کرتے ہوئے ترکی سے آنے والی درآمدات پر محصولات کے علاوہ بعض پابندیاں بھی عاید کردی تھیں۔

ترک حکام نے پادری برونسن پر کرد جنگجوؤں اور امریکا میں مقیم ترک عالم فتح اللہ گولن کے حامیوں سے روابط کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی لیکن انھوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ان کا ان سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں