.

ہمارا مقصد بشار سے چھٹکارہ پانا نہیں بلکہ "نظامِ حکومت میں بنیادی تبدیلی" ہے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے جیمز جیفری کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک بشار الاسد سے چھٹکارہ پانے کے لیے کوشاں نہیں ہے بلکہ اس کے مقابل اگر نظام حکومت میں "بنیادی" تبدیلی نہ آئی تو وہ شام کی تعمیر نو کے عمل میں کسی قسم کی فنڈنگ نہیں کرے گا۔

واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل کے ریسرچ سینٹر میں ایک کانفرنس کے دوران جیفری کا کہنا تھا کہ بشار حکومت کو "تصفیے" پر آمادہ ہو جانا چاہیے اس لیے کہ وہ شام کی سرزمین پر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ جنگجوؤں کی موجودگی میں جنگ کے سات برس بعد بھی مکمل کامیابی کو یقینی نہیں بنا سکی۔

انہوں نے واضح کیا کہ "ہم ایک ایسا حکمراں نظام چاہتے ہیں جو بنیادی طور پر مختلف ہو۔ میں حکومت کی تبدیلی کی بات نہیں کر رہا ہوں اور نہ ہم بشار الاسد سے چھٹکارہ پانے کی کوشش میں ہیں"۔

امریکی نمائندے کے مطابق شام کی تعمیر نو پر آنے والی لاگت کا اندازہ 300 سے 400 ارب ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے۔ انہوں نے اس تنبیہہ کی یاد دہانی کروائی کہ اگر کسی ایسے سیاسی حل تک نہ پہنچا گیا جو سب کے لیے قابل قبول ہو اور ساتھ ہی شامی حکومت کے برتاؤ میں تبدیلی نہ آئی تو مغربی ممالک تعمیر نو کی فنڈنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔

شام کی جنگ کے ابتدائی برسوں میں سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتی رہی تاہم وقت گزرنے اور جنگ میں شدت آنے کے بعد اس موقف میں تھوڑی تبدیلی آئی۔ البتہ امریکی موقف میں نمایاں تبدیلی ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے پر 2017 کے اوائل میں دیکھنے میں آئی اور واشنگٹن یہ کہنے لگا کہ بشار کی قسمت کا فیصلہ "شام کے عوام" کو کرنا چاہیے۔

شام میں ٹرمپ انتظامیہ کا ایک دوسرا مرکزی مطالبہ ایرانیوں کا کوچ کرنا ہے جو کہ بشار الاسد کو سپورٹ کر رہے ہیں۔