امریکی عدالت نے ملزم کو'کارٹون فلم' دیکھنے کی انوکھی سزا کیوں دی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکی ریاست میزوری میں ایک مقامی عدالت نے جانوروں کےغیرقانونی شکار کی پاداش میں 'بامبی' نامی ایک کارٹون فلم دیکھنے کی انوکھی سزا دی ہے۔ 'بامبی' فلم میں ہرن کے ایک بچے کا قصہ بیان کیا جاتا ہے جس کی ماں کو شکاریوں نے مار دیا تھا۔

امریکی عدالت نے ملزم ڈیوڈ بیری کو نایاب نسل کے ہرن شکار کرنے کے جرم میں‌ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ باقاعدہ سزا کا آغاز 23 دسمبر سے ہوگا۔ عدالت نے اسے باقاعدگی کے ساتھ کارٹون فلم دیکھنے کی بھی سزا سنائی ہے۔

بیری اور اس کے خاندان کے دو دیگر افراد پر تین سال کے دوران نایاب نسل کے شکار کے ممنوعہ سیکڑوں ہرن شکار کرنے کا الزام ہے۔

سنہ 2015ء کے آخری تین ماہ میں ملزمان نے ایک سو ایسے جانور شکار کیے اور موبائل فون کے کیمروں میں ان کی تصاویر بھی بنائیں۔ عدالت نے ملزمان کو جرمانوں کی سزائیں بھی سنائی ہیں۔

خیال رہے کہ کارٹون فلم 'بامبی' پہلی بار 1942ء کو جاری کی گئی تھی۔ اس فلم کا مقصد چھوٹے بچوں والے جانوروں کو شکار کے لیے نشانہ بنانے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں