ایران: رکن پارلیمان نے ہڑتالی ورکروں کی گرفتاریوں کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی پارلیمان کے ایک رکن نے ملک کے جنوب مغرب میں واقع ایک اسٹیل پلانٹ کے ہڑتالی ملازمین کی گرفتاریوں کی مذمت کردی ہے۔اس اسٹیل پلانٹ کے ملازمین گذشتہ کئی ہفتوں سے اپنے مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

ایران کی خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق پارلیمان میں لیبر دھڑے کے سربراہ علی رضا محجوب نے تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ گذشتہ دو روز میں نیشنل اسٹیل گروپ کے متعدد ورکروں کو کام سے متعلق شکایات پر گرفتار کر لیا گیا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’یہ پکڑ دھکڑ آئین کی خلاف ورزی ہے‘‘۔انھوں نے پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرفتار ورکروں کی رہائی کے لیے مداخلت کرے۔

ایران کے صوبہ خوزستان کے شہر اہواز میں نیشنل اسٹیل انڈسٹریز کا عملہ 9 نومبر سے اجرتوں اور مراعات کی عدم ادائی پر ہڑتال پر ہے۔

اہواز میں اس اسٹیل ملز کے ورکروں نے شوش کے نواح میں واقع ہفت تاپح شوگر فیکٹری میں ورکروں کی بقایا جات کی عدم ادائی کے خلاف ہڑتال کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے۔انھوں نے شوگر فیکٹری کے نئے پرائیویٹ مالکان پر مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔تاہم قریباً چار ہزار ورکروں کی اُجرتوں اور بقایا جات کی ادائی کے بعد شوگر فیکٹری میں یہ ہڑتال ختم کردی گئی تھی۔

ایران میں اس سال کے دوران میں تعلیم ، کان کنی ، ٹرانسپورٹ اور اسٹیل کی صنعت سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ کارکنان نے کئی مرتبہ ہڑتالیں کی ہیں۔وہ حالاتِ کار اور کم اُجرتوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

نومبر میں ایرانی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق لاریجانی نے ہڑتالی ورکروں کو ملک میں بد امنی کا سبب بننے پر خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’ورکروں کو اپنے مطالبات کو دشمن (کی مداخلت) کے لیے ایک جواز اور حربہ نہیں بننے دینا چاہیے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں