بیٹے کا نام 'ہٹلر' رکھنے پر والدین کو جیل کی ہوا کھانا پڑ گئی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں‌ ایک جوڑے نے اپنے نومولود بچے کا نام 'ہٹلر' رکھ کر اپنے لیے مصیبت کھڑی کردی۔ بچے کا نام 'ہٹلر' رکھنے اور نازی جرمنی کی جھنڈے کی خصوصی علامت'سواستیکہ' کے ساتھ تصاویر بنانے کی پاداش میں انہیں جیل جانا پڑ گیا۔

برطانیہ کےمقامی اخبارات میں یہ خبر مختلف حوالوں‌ کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی اس کا مطالعہ کیا۔
اخباری خبروں کے مطابق نومولود کے والد 22 سالہ آدم تھامس اور 38 سالہ ماں کلوڈیا پاٹاٹاس کو برمنگھم کی ایک مقامی عدالت نے بیٹے کا نام 'ہٹلر' رکھنے پر طلب کیا۔ عدالت نے بیٹے کا نام ہٹلر رکھنے والے بچے کے والد کو چھ سال چھ ماہ اور ماں کو پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق دونوں کو یہ سزا صرف اس لیے نہیں دی گئی کہ انہوں‌نے بچے کا نام ہٹلر رکھا ہے بلکہ پولیس کی تحقیقات کے مطابق ان دونوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ بھی بتایا جاتا ہے۔ نازیوں کی حمایت کرنے والی اس تنظیم کو برطانیہ میں سنہ 2016ء میں ایک عدالتی حکومت پر کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیاہے کہ بچے کا نام ہٹلررکھنے والے والدین کی تشدد اور نسل پرستی کے عقائد کی طویل تاریخ ہے۔ عدالت نے ان کے خاندان کے ایک قریبی دوست دارین فیلیٹچر کو بھی شدت پسندانہ خیالات رکھنے کی پاداش میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچے کانام ہٹلر رکھنے کے کیس میں اس کے والدین سمیت چھ افراد کو سزائیں دی گئیں۔
خیال رہے کہ یورپی ملکوں میں 'ہٹلر' کا تذکرہ اور جرمنی کے نازیوں کے حوالے سے کوئی بھی بات جرم تصور کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں