سعودی عرب کے نئے بجٹ میں توانائی ،صنعتوں اور کان کنی کے لیے 33 ارب ریال مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مالی سال 2019ء کے بجٹ میں 33 ارب ریال (8.8 ارب ڈالر) توانائی ، صنعتوں ،کان کنی اور لاجسٹکس کے شعبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ بات سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں بتائی ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ یہ رقم گذشتہ سال کے میزانیے کے مقابلے میں تین گُنا سے زیادہ ہے۔

سعودی عرب کی وزارت خزانہ نے منگل کے روز مالی سال 2019ء کے میزانیے کے اعداد وشمار جاری کیے ہیں۔نئے میزانیے میں اخراجات کا تخمینہ 11 کھرب سعودی ریال لگایا گیا ہے اور یہ ایک ریکارڈ رقم ہوگی ۔یہ 2018ء کے بجٹ میں مختص کردہ رقم کے مقابلے میں 7.3 فی صد زیادہ ہے۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں آمدن کا تخمینہ 975 ارب ریال لگایا گیا ہے۔اس طرح 2018ء کے مقابلے میں آمدن کا تخمینہ نو فی صد زیادہ مقرر کیا گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ آیندہ سال بجٹ خسارہ کم ہو کر 4.2 فی صد رہ جائے گا۔بجٹ خسارے کی رقم 131 ارب ریال ہوگی جبکہ سرکاری قرضے کا حجم 678 ارب ریال ہوگا ۔ قرضے کی یہ رقم مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی) کا 21.7 فی صد ہوگی۔سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر آیندہ مالی سال کے دوران میں 496 ارب ریال تک پہنچ جائیں گے اور یہ رقم جی ڈی پی کا 15.9 فی صد ہوگی ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں