شام میں داعش کو شکست ہوچکی:صدر ٹرمپ کا اعلان،امریکی فوجیوں کے انخلا پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ شام میں داعش گروپ شکست سے دوچار ہوگیا ہے،امریکی فوج کی اس ملک میں موجودگی کا صرف یہی ایک سبب تھا اور اب فوج کے انخلا پر غور کیا جارہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ ہم نے شام میں داعش کو شکست سے دوچار کردیا ہے ۔ٹرمپ صدارت میں میرا وہاں موجود ہونے کا صرف یہی ایک جواز تھا‘‘۔

قبل ازیں آج ہی بعض امریکی عہدے داروں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا شام سے اپنے تمام فوجیوں کے انخلا پر غور کررہا ہے کیونکہ وہاں داعش کے زیر قبضہ تمام علاقوں پر کنٹرول کے لیے مہم مکمل ہونے کے قریب ہے ۔

صدر ٹرمپ اس سے پہلے بھی اپنی اس شدید خواہش کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ شام سے تمام فوجیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔تاہم انھوں نے امریکی فوجیوں کے انخلا کا کوئی نظام الاوقات نہیں دیاہے۔رائیٹرز سے گفتگو کرنے والے امریکی عہدے داروں نے بھی یہ نہیں بتایا ہے کہ فوجیوں کے انخلا کے بارے میں کس سطح پر غور کیا جارہا ہے۔وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

شام میں اس وقت قریباً دو ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ان میں زیادہ تر خصوصی فورسز سے تعلق ر کھتے ہیں اور وہ امریکا کے حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔

امریکا کی ایس ڈی ایف کے ساتھ شراکت داری سے داعش کو شام میں اس کے زیر قبضہ علاقوں میں شکست دینے میں ضرور مدد ملی ہے لیکن اس سے اتحاد پر امریکا کا نیٹو اتحادی ترکی نالاں ہے۔ وہ ایس ڈی ایف میں شامل کرد ملیشیا وائی پی جی کو ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں لڑنے والے باغی گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کا اتحادی سمجھتا ہے۔

شام کے بعض علاقوں میں ترک فورسز اور ان کے اتحادی شامی باغیوں کی ایس ڈی ایف سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔تاہم امریکا کے دباؤ کی وجہ سے ترکی کی فوج نے شام میں ایس ڈی ایف کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں