مراکش : یورپی خواتین سیاحوں کے قتل کے حوالے سے تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش میں حکام نے ملک کے جنوبی حصے میں دو یورپی خواتین سیاحوں کی آبرو ریزی اور قتل کے جرم میں ملوث افراد کی شناخت کر لی ہے۔ یہ پیش رفت منگل کی صبح مراکش شہر میں حراست میں لیے جانے والے ایک مشتبہ شخص سے پوچھ گچھ کے بعد سامنے آئی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس بہیمانہ جرم میں 3 نوجوان ملوث ہیں۔ ان میں دو کا تعلق آسفی شہر سے اور ایک کا مراکش شہر سے ہے۔ آخر الذکر کو سکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر تحقیقات کیں جس پر اس نے جرم میں شریک اپنے بقیہ ساتھیوں کے بارے میں انکشاف کیا۔

مراکش میں اپنی نوعیت کے اس نادر واقعے کی نئی تفصیلات کے مطابق ڈنمارک سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ لوئزا جیسبرسن اور ناروے سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ اولاند مارین نے اتوار کی صبح مراکش شہر کے مضافاتی علاقے الحوز میں واقع پہاڑی سلسلے اٹلس کی ایک چوٹی پر "شمهروش" کے مقام پر ایک الگ تھلگ جگہ اپنا کیمپ نصب کر لیا۔ اس دوران مذکورہ تینوں مشتبہ نوجوانوں نے بھی ان کے نزدیک اپنا کیمپ لگا لیا۔ بعد ازاں وہ تینوں جرم کا ارتکاب کر کے وہاں سے روانہ ہو گئے۔ تاہم علاقے میں ایک کیمپ میں نصب سکیورٹی کیمرے میں ان تینوں کی نقل و حرکت ریکارڈ ہو گئی جو کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب دو سے تین بجے کے درمیان تھی۔ پیر کی صبح دونوں خواتین سیاح اپنے کیمپ میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔

مراکش میں سرکاری استغاثہ کی نگرانی میں اس جرم کی تحقیقات جاری ہیں جس نے پورے ملک بالخصوص سیاحت کے سیکٹر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سکیورٹی حکام جرم میں ملوث بقیہ افراد کو حراست میں لینے کے لیے سرگرم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں