البانیا کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کےا لزام میں دو ایرانی سفارت کار بے دخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

براعظم یورپ میں مسلم اکثریتی ملک البانیا نے ایرانی سفیر اور ایک سفارت کار کو اپنی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک سے بے دخل کر دیا ہے۔

البانوی حکومت نے ان دونوں ایرانی سفارت کاروں کی شناخت نہیں بتائی اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس نے کب انھیں بے دخل کرنے کا حکم دیا تھا اور آیا وہ اس یورپی ملک سے واپس چلے گئے ہیں۔البتہ اس نے کہا ہے کہ اس نے اپنے نیٹو اتحادیوں سے اس معاملے پر مشاورت کی تھی۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے البانیا کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ البانوی وزیراعظم عدی راما نے ایرانی سفیر کو ملک سے بے دخل کردیا ہے۔انھوں نے ایرانی لیڈروں کو اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ ان کی دہشت گردی کے لیے حمایت سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی‘‘۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’ ہم یورپ میں ایران کے بُرے کردار کے مقابلے میں وزیر اعظم راما اور البانوی عوام کے ساتھ ہیں‘‘۔

البانیا کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ایڈلیرا پرینڈی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ان دونوں سفارت کاروں پر ملک کی سلامتی کے لیے ضرررساں سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شُبہ تھا۔انھوں نے اپنی سفارتی حیثیت کا بھی غلط استعمال کیا ہے‘‘۔

ایران نے اپنے سفارت کاروں کی بے دخلی پر جوابی اقدام کی دھمکی دی ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’دونوں سفارت کار ایرانی ایجنٹ تھے اور انھوں نے البانیا میں دہشت گردی کے حملوں کی سازش کی تھی‘‘۔

خبررساں ایجنسیوں نے البانوی دارالحکومت ترانہ سے بے دخل کیے گئے ایرانی سفیر کا نام غلام حسین محمدنیہ بتایا ہے۔ایک نیوز چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے 2016ء میں مسلم اکثریتی ملک البانیا اور اسرائیل کے درمیان فٹ بال ورلڈ کپ کے کوالیفائی راؤنڈ کے ایک میچ کے دورا ن میں دہشت گردی کے حملے کی سازش تیار کی تھی۔اس میچ کے بعد البانیا اور کوسوو میں کم سے کم بیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

البانیا اور ایران کے درمیان تعلقات میں گذشتہ پانچ سال سے کشیدگی پائی جارہی ہے ۔اس کی بڑی وجہ ایران کی جلاوطن حزب اختلاف مجاہدین خلق تنظیم کے قریباً دو ہزار ارکان کی 2013ء میں اس ملک میں آمد بنی تھی۔البانیا نے مجاہدینِ خلق تنظیم کے ان ارکان کی عراق سے بے دخلی کے بعد امریکا اور اقوام متحدہ کی درخواست پر انھیں قبول کیا تھا اور انھیں ایک بڑے کیمپ میں رکھا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں