داعش بدستور ایک خطرہ ہے: برطانیہ، فرانس شام میں فوج برقرار رکھے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

برطانیہ نے کہا ہے کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ میں ابھی بہت کچھ کیا جانا چاہیے۔اس نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے اپنے فوجیوں کے انخلا سے متعلق فیصلے سے پیشگی خبردار نہیں کیا تھا۔

برطانوی حکومت نے امریکی صدر کے شام سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ داعش کے خلاف عالمی اتحاد نے اہم پیش رفت کی ہے۔ فوجی آپریشنز کے آغاز کے بعد سے اتحاد اور اس کے شراکت داروں نے شام اور عراق میں داعش کے زیر قبضہ وسیع علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔حالیہ دنوں میں شام کے مشرق میں داعش کے زیر قبضہ رہ جانے والے آخری علاقوں کی جانب بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے‘‘۔

برطانیہ کے جونیٔر وزیر دفاع ٹوبیاس ایلووڈ نے کہا ہے کہ ’’ابھی بہت کچھ کیا جانا چاہیے ۔ہمیں ان (داعش) سے درپیش خطرے سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ داعش کسی علاقے کے بغیر بھی ایک خطرہ رہیں گے‘‘۔انھوں نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے سے بھی اختلاف کیا ہے کہ شام میں داعش شکست سے دوچار ہوچکے ہیں۔انھوں نے لکھا ہےکہ ’’ میں اس سے شدید اختلاف رکھتاہوں‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ’’ اس گروپ نے انتہا پسندی کی دوسری شکلیں اختیار کرلی ہیں اور خطرہ ابھی زندہ ہے‘‘۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ داعش کو شام میں شکست ہوچکی ہے۔انھوں نے اس جنگ زدہ ملک سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

دریں اثناء فرانس نے شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے اتحاد میں موجود رہنے کا اعلان کیا ہے۔فرانس کی یورپی امور کی وزیر نتھالی لوئزیو نے ایک ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ داعش کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔یہ درست ہے کہ اتحاد نے شام میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن یہ جنگ جاری رہے گی اور ہم اس کو جاری رکھیں گے‘‘۔

فرانس کے لڑاکا طیارے داعش کے خلاف امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مہم میں شریک ہیں اور وہ اس وقت اردن میں موجود ہیں۔ وہ وہیں سے اڑ کر شام میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔اس کے علاوہ فرانس کی آرٹلری بھی عراق میں شامی سرحد کے ساتھ موجود ہے۔اس کے خصوصی دستے بھی برسرزمین امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن ان کی حقیقی تعداد معلوم نہیں ہے۔

فرانس کی وزیر دفاع فلورینس پارلی نے بھی جمعرات کو ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’داعش گروپ کو نقشے سے مٹایا جاسکا ہے اور نہ اس کا مکمل طور پر استیصال کیا جاسکا ہے۔ ہمیں اس دہشت گرد تنظیم کی آخری ٹولیوں کو بھی شکست سے دوچار کرنا ہوگا‘‘۔

امریکا کی اتحادی شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) نے بھی صدر ٹرمپ کے فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کی مخالفت کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل جائے گا اور وہ دوبارہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں