مصری فورسز نے قبطیوں پر حملوں کی سازش ناکام بنا دی،8 مشتبہ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری پولیس نے دارالحکومت قاہرہ او ر اس کے نواحی علاقوں میں آٹھ مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

مصر کی وزارت داخلہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ہلاک شدگان کا تعلق حسم گروپ سے تھا ۔اس گروپ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کالعدم الاخوان المسلمون سے الگ ہوا تھا۔پولیس نے قاہرہ میں ایک خفیہ ٹھکانے پر چھاپا مار کارروائی میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

قاہرہ اور اس سے ملحقہ شہر جیزہ میں مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف یہ کارروائیاں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ انٹیلی جنس کو یہ اطلاع ملی تھی کہ مشتبہ جنگجو قبطی عیسائیوں کے کرسمس کے موقع پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔واضح رہے کہ قبطی عیسائی 7 جنوری کو کرسمس مناتے ہیں۔

مصری وزارت داخلہ نے مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔حسم گروپ نے اس سے پہلے سکیورٹی فورسز پر تباہ کن حملوں ،حکومت نواز ایک عالم دین اور مصر کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پر قاتلانہ حملے کی ذمے داری قبول کرنے کے دعوے کیے تھے۔

مصری سکیورٹی فورسز جولائی 2013ء میں ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں۔اس دوران میں سیکڑوں جنگجو اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

قبطی عیسائی مصر کی کل 9 کروڑ 60 لاکھ آبادی کا 10 فی صد ہیں۔گذشتہ برسوں کے دوران میں داعش کے جنگجوؤں نے قبطیوں کو خاص طور پر اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے اور ان کی عبادت گاہوں پر متعدد بڑے تباہ کن حملے کیے ہیں۔ مصر کی مسلح افواج نے فروری 2018ء میں ملک بھر اور بالخصوص شورش زدہ جزیرہ نما سیناء میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں