کیا 'جونسن اینڈ جونسن' کمپنی کا بے بی پائوڈر کینسر پھیلانے کا موجب ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت میں صحت کے ماہرین کے ایک ذمہ دار ذریعے کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی 'جونسن اینڈ جونسن' کے تیار کردہ 'بے بی پائڈر' کی تیاری میں‌استعمال ہونے والے اجزاء میں 'ایسبسٹوس' نامی مرکب کینسر کا سبب بن رہا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی ماہرین نے جونسن کمپنی کے ہاں تیار کردہ بے بی پائوڈر کے بعض نمونے حاصل کیے ہیں۔ یہ پائوڈر شمالی ریاست کے ایک کارخانے میں تیار کیا جاتا ہے۔

بھارت میں جونسن کمپنی کے بے بی پائوڈر کے بارے میں چھان بین رائٹرز کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے بعد کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے نے انکشاف کیا تھا کہ جونسن اینڈ جونسن کمپنی برسوں سے 'ایسبسٹوس' مرکب استعمال کررہی ہے اور یہ مرکب بچوں میں کینسر پھیلانے کا موجب بن رہا ہے۔

بھارت کےایک طبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جونسن کمپنی کے بے بی پائوڈر کے نمونے ریاست ہما چل پردیش کے بادی نامے کارخانےمیں تیار ہونے والے پائوڈر سے لیے گئے۔

بھارت میں سامنے آنے والی اس خبر پرجونسن اینڈ جونسن کمپنی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم 'رائٹرز' کی طرف سے گذشتہ جمعہ کو جاری کردہ رپورٹ کے بعد جونسن اینڈ جونسن کمپنی نے نیوز ایجنسی کی رپورٹ کو یک طرف، من گھڑت اور نفرت پھیلانے' کا ایک نیا حربہ قرار دیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ بے بی پائوڈر میں 'اسبسٹوس'نامی کوئی مرکب نہیں پایا جاتا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ مردو خواتین پر کی جانے والی ایک اسٹڈی سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ پائوڈر سرطان یا ایسبسٹوس مرکب سے پیدا ہونے والی کسی بیماری کا سبب نہیں بنتا۔

بھارتی ریاست تلنگانا کے شعبہ صحت کے ایک عہدیدار سوریندرا نات سائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے معائنہ کاروں کو جونسن کمپنی کے بےبی پائوڈر سے نمونے لینے کی درخواست کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ماہرین اس مرکب کے خطرات کے بارے میں جان کاری کررہےہیں۔ اگر یہ سچ ہے کہ جونسن اینڈ جونسن کمپنی کا بے بی پائوڈر بچوں میں کینسر کا موجب بنتا ہے تو یہ بڑی تشویش کی بات ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں