ہم کردوں کو مورچوں میں دفن کر دیں گے: ترکی کا اعلان

داعش کے خلاف آپریشن کے خاتمے کے بعد امریکا کا شام سے فوج نکالنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آقار نے کہا ہے کہ شامی مشرقی فرات کے علاقے میں مسلح کردوں کو ’’مناسب وقت پر ان کے مورچوں میں زندہ دفن کر دیں گے۔‘‘ حلوصی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے امریکی فوج کے انخلاء کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’اناضول‘‘ نے حلوصی آقار سے منسوب بیان میں کہا ہے کہ ’’مشرقی فرات اور منبج ہمارا ہدف ہیں۔ ہم اس مسئلے پر شد ومد سے کام کر رہے ہیں۔‘‘ ترکی نے شمالی شام میں پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف جلد ہی فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ امریکی فوجیوں کو اب شام سے اپنے ملک لوٹانے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ فوجی کئی برسوں سے شام میں داعش کے خلاف جنگ میں مصروف تھے۔

ٹویٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم جیت چکے ہیں، دہشت گرد تنظیم ہار چکی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہم نے انہیں شکست فاش سے دوچار کرتے ہوئے شام سے نکال باہر کیا ہے اور ان کے زیر قبضہ شامی علاقہ واگذار کرا لیا ہے۔‘‘

امریکی وہائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز شام سے اپنی فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا تھا۔ ایک اعلان میں وہائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ’’داعش پر کامیابی سے انتہا پسندی کے خلاف عالمی اتحاد یا اس کی مہم ختم نہیں ہو گئی۔‘‘

ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شام سے فوجیوں کے انخلاء میں ساٹھ سے ایک سو دن لگیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شام سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی داعش کے خلاف آخری آپریشن کے ساتھ مکمل ہو جائے گی۔

امریکی دفتر خارجہ کے عہدیدار کے مطابق شام سے وزارت خارجہ کے اہلکاروں اور ملازمین کو 24 گھنٹوں میں واپس بلا لیا جائے گا۔
امریکی وزارت دفاع ’پینٹاگان‘ نے بتایا کہ ’’عالمی اتحاد نے داعش کے زیر نگین علاقوں کو انتہا پسندوں سے آزاد کرا لیا ہے، تنظیم اور اس کی سوچ کے خلاف ہماری مہم ختم نہیں ہوئی۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں